.

اردن:عورت کی بیک وقت چار مردوں سے شادیاں

چار مردوں کی بیوی کے حاملہ ہونے کے بعد کیس عدالت پہنچ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسلم دنیا میں سے عرب ممالک میں خاص طور پر مردوں کی بیک وقت چار چار عورتوں سے شادیاں تو عام ہیں اور ان میں سے بعض کے دلچسپ قصے بھی منظرعام پر آتے رہتے ہیں لیکن اردن میں ایک عورت کی بیک وقت چارمردوں سے شادیوں کا منفرد کیس سامنے آیا ہے۔

اس عورت نے بیک وقت دو شامی مردوں ،ایک اردنی اور ایک سعودی سے شادی کررکھی ہے اور وہ حاملہ ہے جس پر اس کے چاروں خاوند ہونے والے بچے کے باپ ہونے کے دعوے دار ہیں اور وہ اس معاملے کو عدالت میں لے آئے ہیں۔

لندن سے شائع ہونے والے عربی روزنامے الحیات میں اسی ہفتے شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق یہ کیس اب اردن کے شمالی قصبے الرمثا کی ایک عدالت میں زیر سماعت ہے۔ان چاروں مردوں میں سے ہر ایک نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ خاتون کو اسی سے حمل ہوا ہے اور ان میں سے ہر مرد اس خاتون کی کسی اور مرد کے ساتھ شادی شدہ ہونے سے متعلق لاعلمی ظاہر کررہا ہے۔

ردعمل

عدالت نے اب اس الجھے ہوئے معاملے کو سلجھانے کے لیے ان پانچوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا حکم دیا ہے۔اس خبر کی اشاعت کے بعد بہت سے لوگوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ ایک مسلم معاشرے میں بھی اس طرح ہوسکتا ہے کہ ایک عورت نے بیک وقت چار شادیاں کر لی ہیں۔

واضح رہے کہ اسلام میں مردوں کو تو چار تک شادیاں کرنے کی اجازت ہے لیکن عورت کی بیک وقت ایک سے زیادہ مردوں کے ساتھ شرعی اور قانونی طور پر شادی کی ممانعت ہے اور اگر کوئی عورت ایسا کرے تو اس کو حرام کاری قراردیا جاتا ہے اور عورت شرعی سزا کی مستوجب ہوجاتی ہے۔

اردنی عورت کی چار مردوں سے شادی پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک شخص کا کہنا تھا کہ ''یہ ایک خطرناک اسٹوری ہے اور قانون دھوکے بازوں کو کوئی تحفظ مہیا نہیں کرتا''۔

ایک اور شخص نے اس شادی کی مذمت کرتے ہوئے اس کو ''پوشیدہ قحبہ گری''قراردیا ہے۔ایک تبصرہ نگار نے تو عدالت ہی کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور اس کا کہنا تھا کہ کیا عدالت کا فیصلہ اللہ کے قانون کے مطابق ہے یا ہالی وڈ کے قانون کے مطابق کیا گیا ہے۔