.

سعودی مرد ملازمت پیشہ بیویوں کی تن خواہوں کے دعوے دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں مہینے کے اختتام پر بہت سی ملازمت پیشہ بیویوں کی اپنے خاوندوں سے لڑائی ایک معمول بن چکی ہے اور اس کی وجہ ان خاوندوں کا بیویوں کی تن خواہوں پر دعوے دار بن جانا ہے۔

سعودی خواتین ملازمتیں تو خود کرتی ہیں لیکن مہینے کے اختتام پر تن خواہ کی شکل میں ان کے ہاتھ کچھ نہیں آتا اور ان کے خاوند تن خواہ کی رقوم وصول پالیتے ہیں۔سعود سلمان ایسی ہی ایک خاتون ہیں۔وہ ایک معلمہ ہیں۔ہر مہینے کے اختتام پر ان کا اپنے خاوند اور خاندان سے تن خواہ پر جھگڑا ہی رہتا ہے اور ان میں سے ہر کوئی ان کی تن خواہ کا دعوے دار ہوتا ہے۔

ملازم پیشہ خواتین کی تن خواہوں پر دعوے دار خاوندوں کا موقف ہے کہ انھیں اپنی بیویوں کو ملازمت سے روکنے کا شرعی و قانونی حق حاصل ہے۔اس لیے سرپرست یا قوام ہونے کے ناتے انھیں ہی تن خواہ کی رقم وصولنے کا بھی حق حاصل ہے جبکہ بیویوں کا موقف ہے کہ انھیں اپنی تن خواہ کی رقم لینے اور اس کو اپنے استعمال میں لانے کا حق ہے۔

بعض ہوشیار خواتین اپنی تن خواہوں کو اپنے والد اور خاوند میں برابر تقسیم کردیتی ہیں لیکن ایسی خواتین کا بالعموم اپنے خاوندوں سے روزانہ ہی جھگڑا رہتا ہے۔تغرید عبداللہ بھی ایک ملازمہ پیشہ خاتون ہیں۔ان کا خاوندایک نجی کمپنی میں کام کرتا ہے اور اس کی تن خواہ پانچ ہزار سعودی ریال سے بھی کم ہے۔وہ اس رقم میں سے صرف کرایہ ادا کرتا ہے۔

وہ اپنے خاوند کو ایک کنجوس انسان قرار دیتی ہیں کیونکہ گھر کے باقی تمام اخراجات وہ خود برداشت کرتی ہیں۔حتیٰ کہ گھریلو ملازمہ کی تن خواہ بھی وہ خود ادا کرتی ہیں لیکن اسی پر ہی بس نہیں وہ خاوند کو روزانہ الاؤنس اور کار کا خرچہ بھی دیتی ہیں۔جب انھوں نے اپنے خاوند کو رقم دینے سے انکار کردیا تو اس نے انھیں کام پر جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔چنانچہ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر انھیں خاوند کے مطالبات کو ماننا پڑا۔

وکیل اور قانونی مشیر سلطان الحارثی کا کہنا ہے کہ بیوی اور بچوں کے اخراجات پورے کرنا خاوندوں کی ذمے داری ہے۔اگر بیویاں ملازمت کررہی ہوں تو وہ تب بھی ایسا کرنے کے پابند ہیں۔

انھوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عورت اگر نوکری پیشہ ہے یا اسے وراثت میں دولت ملی ہے تو وہ اپنی تن خواہ اور اس دولت کی تنہا مالکہ ہے اور خاوند کو ان پر کسی قسم کا حق حاصل نہیں ہے۔تاہم اگر ایسی بیوی اپنی رضا ورغبت سے خاوند کو کچھ رقم دے دیتی ہے تو وہ ایسا کرسکتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ خاوند اور بیوی کے درمیان تن خواہ پر تنازعے کی وجہ سے بعض کیس طلاق پر منتج ہوتے ہیں کیونکہ خاوند حضرات بیویوں کی رضا مندی کے بغیر ہی ان کی تنخواہیں ضبط کرلیتے ہیں حالانکہ انھیں ایسا کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔

سماجی محققہ حفصہ شعیب کے بہ قول بہت سی بیویوں نے اس مسئلے کی شکایت کی ہے لیکن انھوں نے اس کا سبب ایک اور پس منظر کو قراردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بہت سے زیر تعلیم لڑکے اپنی ملازم پیشہ بہنوں کی تن خواہوں میں ایک معقول رقم ہر ماہ لے لیتے ہیں اور خاندان کے افراد یا بہنیں بھی انھیں ایسا کرنے سے نہیں روکتے۔جب ایسے لڑکوں کی شادی ہوتی ہے تو وہ پھر ملازمت پیشہ بیویوں سے بھی اسی قسم کے طرزعمل کے متمنی ہوتے ہیں اور ان کی تن خواہیں بھی اینٹھںا شروع کردیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ماضی میں تو یہ رہا ہے کہ مرد حضرات اپنی بیویوں سے کسی قسم کی امداد لینا اپنی تحقیر اور مردانہ شان کے منافی سمجھتے تھے لیکن آج کل معاملہ الٹ ہوچکا ہے۔اب مرد حضرات ملازمت پیشہ بیوی کی تلاش میں ہوتے ہیں تا کہ وہ ان کے گھر کے کام بھی کرے اور گھریلو اخراجات میں ان کا ہاتھ بھی بٹائے مگر ایسے گھرانوں میں بالعموم لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے ہیں''۔