.

جدہ میں دنیا کی بلند ترین عمارت کی تعمیر کی تیاریاں

1000 میٹر بلند برج کا تخمینہ 4 ارب 60 کروڑ ریال لگایا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ممالک دُنیا کی بلند ترین عمارتوں کی تعمیر کے حوالے سے پہلے بھی عالمی شہرت رکھتے ہیں۔ اس باب میں سعودی عرب نے ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے بحر احمر کے کنارے واقع مشرقی شہر جدہ میں دنیا کی بلند ترین عمارت تعمیر کرنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

برطانوی اخبار "ڈیلی میل" کی رپورٹ کے مطابق ماہرین تعمیرات اور انجینیئرز نے جدہ میں مجوزہ فلک بوس عمارت کی تعمیر کے لیے زمین کی فزیبیلٹی رپورٹ کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اس مقصد کے لئے مختلف مقامات سے مٹی کے نمونے حاصل کرنا شروع کر دیے گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں عمارت کی تعمیر کے لیے زیر زمین نصف میل تک رطوبت والی مٹی درکار ہے جس میں کنکریٹ کے بھاری پائپ ڈالے جائیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں غیر معمولی بلند عمارت کی تعمیر میں لفٹیں لگانے میں مشکل کا سامنا رہے گا۔

ابتدائی منصوبے کی تیاری کے لیے "ACTS" نامی ایک تعمیراتی فرم کو کام سونپا گیا ہے جو مطلوبہ خام مواد کی تلاش اور تیاری میں مصروف ہے۔ اخبار"سعودی گزٹ" کی رپورٹ کے مطابق فلک بوس عمارت میں نصف ملین مکعب میٹر کنکریٹ اور 80 ہزار ٹن لوہا استعمال کیا جائے گا۔

سنہ 2017ء میں مکمل ہونے والے اس منصوبے پر چار ارب 60 کروڑ ریال صرف ہوں گے۔ جدہ کی اس بلند ترین عمارت میں کئی لگژری ہوٹل، شاپنگ مال، رہائشی فلیٹس اور دفاتر قائم کیے جائیں گے۔ دو سو منزلہ اس عمارت کی 160 منزلیں صرف رہائشی مقاصد کے لیے ہوں گے۔

ماہرین تعمیرات کا کہنا ہے کہ 3000 فٹ بلند برج میں پانی کی سپلائی کو یقینی بنانا بھی ایک پیچیدہ مسئلہ رہے گا تاہم یہ تمام پیچیدگیاں دور کرنا ناممکن بھی نہیں۔

خیال رہے کہ اب تک دنیا کی بلند ترین عمارت متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں 'بُرج الخلیفہ' ہے جس کی بلندی 828 میٹر ہے۔ ان کےعلاوہ بلند ترین عمارتوں میں شنگھائی ٹریڈ سینٹر492 میٹر، نیویارک میں اپمپائر اسٹیٹ 381 میٹر پیٹرو ناس جڑواں ٹاور 492 میٹربلند عمارتیں قرار دی جاتی ہیں۔