.

پارلیمنٹ لاجز میں غیر اخلاقی سرگرمیاں:جمشید دستی سے ثبوت طلب

ذمے دار ارکان پارلیمان کے خلاف بلا لحاظ کارروائی کی جائے گی:اسپیکر قومی اسمبلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی کے آزاد رکن جمشید دستی خبروں میں رہنے کا فن خوب جانتے ہیں اور وہ ارباب اقتدار وسیاست کو ان کی غلط کاریوں اور غلط رویوں پر آئے دن آڑے ہاتھوں لیتے رہتے ہیں۔

جمعرات کو انھوں نے قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے ''پیٹی بند ارکان پارلیمان'' کے اخلاق وکردار کا جنازہ نکالا ہے اور یہ بیان داغا ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں مقیم متعدد ارکان پارلیمان ''غیر اخلاقی سرگرمیوں'' میں ملوث ہیں۔اس کی تشریح کرتے ہوئے انھوں نے ارشاد کیا کہ ''لڑکیوں کو لاجز میں لایا جاتا ہے اور مجرے برپا کیے جاتے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''پارلیمنٹ لاجز غیر اخلاقی سرگرمیوں کا گڑھ ہیں اور اس کے ثبوت میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہاں چار سے پانچ کروڑ کی شراب مہیا کی گئی ہے اور چرس بھی دستیاب ہے''۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے ویڈیو فوٹیج موجود ہے۔انھوں نے اسے ایک سنگین معاملہ قراردیتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی سے کہا کہ وہ اس کی تحقیقات کرائیں۔انھوں نے ارکان پارلیمان کے میڈیکل ٹیسٹ کرانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

نوجوان جمشید دستی جب یہ ہوشربا انکشافات فرما رہے تھے تو اس وقت اسپیکر قومی اسمبلی ایوان میں موجود نہیں تھے اور ان کی جگہ مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علماء اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن نعیمہ کشور اجلاس کی صدارت کررہی تھیں۔انھوں نے کہا کہ ایم این اے صاحب کو اسپیکر کے چیمبر میں جاکر اس معاملے پر بات کرنی چاہیے تھی۔

اسپیکر ایاز صادق جب ایوان میں واپس آئے تو انھوں جمشید دستی سے اپنے الزامات کے حق میں ثبوت پیش کرنے کے لیے کہا اور مزید فرمایا کہ جو بھی ذمے دار پایا گیا ،اس کے خلاف جماعتی وابستگی سے بالا تر ہوکر کارروائی کی جائے گی۔

اسپیکر نے پارلیمنٹ لاجز میں شراب ، چرس اورباہر سے لڑکیاں لانے کے الزامات پر جمشید دستی سے پیر تک ثبوت طلب کیے ہیں اور انھیں ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے الزامات سے متعلق ویڈیوز اور دیگر ثبوت فراہم کریں۔انھوں نے پارلیمنٹ لاجز کے سیکورٹی انچارج کو بھی سی سی ٹی وی وڈیو محفوظ رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

درایں اثناء وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان نے پارلیمنٹ لاجز میں غیراخلاقی سرگرمیوں سے متعلق الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پارلیمنٹ لاجز کی کئی مہینوں کی وڈیوموجود ہے،نشاندہی کی جائے کہ کس دن غیراخلاقی سرگرمی ہوئی۔

قومی اسمبلی میں جمشید دستی کے الزامات کے جواب میں تقریر کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ پارلیمنٹ لاجز میں ایم این اے یا سینیٹرزکے علاوہ آنے والی تمام گاڑیوں کی تفصیلی چیکنگ کی جاتی ہے،غیراخلاقی سرگرمیوں کے الزامات بے بنیاد ہیں،وہاں اراکین پارلیمان کی رہائش گاہیں ہیں،جہاں ان کے اہل خانہ بھی رہتے ہیں اور انھیں سیکیورٹی حکام نے بتایا ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں مجرے نہیں ہوتے ہیں۔