.

جرمن ماڈل نے لاکھوں ڈالر کے عوض ڈنر کی پیشکش ٹھکرا دی

کھانے کی دعوت عرب کروڑ پتی کی جانب سے دی گئی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کی ایک مشہور فیشن ماڈل کلوڈیا شیفر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک کروڑ پتی عرب کی جانب سے ایک ملین آسٹریلوی پاؤنڈ یعنی سولہ لاکھ امریکی ڈالر کے عوض رات کے کھانے کی پیشکش مسترد کر دی تھی۔

برطانوی اخبار "گارڈین" کے مطابق 42 سالہ کلوڈیا شیفر نے ایک ٹی وی انٹرویو میں انکشاف کیا کہ اس نے عرب کروڑ پتی کی کھانے کی دعوت ٹھکرا دی تو ایک دوسری فیشن ماڈل نے اس کی جگہ دعوت قبول کر لی تھی۔ تاہم اس نے دوسری فیشن ماڈل کا نام نہیں بتایا۔

ایک سوال کے جواب میں شیفر کا کہنا تھا کہ عموما فیشن ماڈلز اور اداکاراؤں کو دنیا کے امیر ترین لوگوں کی جانب سے اپنے ساتھ کھانے کی دعوتیں ملتی رہتی ہیں۔ پچاسی فیصد فیشن ماڈلز دعوت قبول کر لیتی ہیں جبکہ پندرہ فی صد انکار کر دیتی ہیں۔

جرمن فیشن ماڈل کا کہنا تھا کہ اسے بھی زندگی میں کئی بار امراء کی جانب سے کھانے کی دعوتیں ملیں ہیں۔ وہ کسی دعوت پر حیران نہیں ہوئی لیکن ایک عرب کروڑ پتی شہری کی جانب سے اسے کھانے کی دعوت دی گئی تو وہ حیران رہ گئی تھی تاہم اس نے وہ دعوت قبول نہیں کی۔ اس کی جگہ ایک دوسری فیشن ماڈل نے سولہ لاکھ ڈالر کے عوض ڈنر قبول کر لیا تھا۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں شیفر کا کہنا تھا کہ لمبے قد کی وجہ سے اس کی اسکول فیلوز ہمیشہ اس کا مذاق اڑایا کرتی تھیں۔ سب اسے بطخ کے لقب سے پکارتے اور اس کا بچپن میں کوئی دوست یا سہیلی نہیں تھی۔ اس نے کہا کہ فیشن ماڈلنگ کا پیشہ اختیار کرنے سے قبل وہ خود بھی اپنے آپ سے شرمندہ رہتی تھی لیکن اس پیشے نے اسے ایک نئی زندگی جینے کا حوصلہ دیا۔