.

جنگ کریمیا میں عربوں کا فاتحانہ کردار، تاریخ سے حذف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوکرین کے علاقے کریمیا کے بارے میں گرما گرم خبریں ان دنوں عالمی میڈیا کا موضوع ہیں اور روسی فوج اس علاقے پر چڑھائی کیا ہی چاہتی ہے،ایسے میں بہت سوں کو شاید یہ معلوم نہ ہو کہ وہاں 160 سال قبل عرب فوج بھی روسی فوج کے خلاف جنگ لڑ چکی ہے۔

مصری مؤرخ محمود ثابت کے بہ قول ''جنگ کریمیا'' کے نام سے معروف اس جنگ کی تاریخ میں عربوں کی شرکت کو حذف کردیا گیا ہے۔عسکری مؤرخ اینڈریو مکگریگور کے نزدیک اس کی بنیادی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ مغربی فوج کی تاریخ اور تاریخی واقعات کتب کی شکل میں تو بہ کثرت موجود ہیں لیکن عثمانی فوج کا ریکارڈ ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔

انھوں نے لکھا ہے کہ ''عثمانی فوج کے بہت سے افسر درحقیقت ناخواندہ تھے لیکن جو اپنے خیالات کو الفاظ کا جامہ پہنا سکتے تھے،انھیں بھی شاید انیسویں صدی کی آفیسر کور میں ذاتی مخاصمتوں اور بدعنوانیوں کے پیش نظر تفصیل بیان کرنے یا لکھنے سے قبل کئی مرتبہ سوچنا پڑتا ہوگا۔

بہرکیف تاریخ نے جنگ کریمیا کی جو تفصیل محفوظ کی ہے،اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ 1850ء کے عشرے کے آغاز میں یورپی طاقتوں،سلطنت عثمانیہ اور سامراجی روس کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی۔

طویل المیعاد تنازعہ

سلطنت عثمانیہ کا ایک طویل عرصے سے روس کے ساتھ سرحدی تنازعہ چل رہا تھا۔خاص طور پر کریمیا پر روسی قبضے کی وجہ سے ان دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان محاذ آرائی جاری تھی۔یہ علاقہ سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا لیکن سترھویں صدی میں روس نے اس پر قبضہ کر لیا تھا۔

روس ترکی کے سلطان عبدالمجید اول کی رعایا میں شامل آرتھوڈکس لوگوں کو اپنی تولیت میں لینے کا خواہاں تھا مگر اس کے بجائے سلطنت عثمانیہ نے فرانس کےساتھ اس ضمن میں ایک معاہدہ کر لیا جس کے تحت سلطنت عثمانیہ میں مسیحی جگہوں اور لوگوں کی ذمے داری فرانس کو سونپ دی گئی تھی جبکہ پہلے روس یہ کردار ادا کررہا تھا۔

سلطان عبدالمجید اول اپنے اس دیرینہ دشمن کو شکست سے دوچار کرنا چاہتے تھے اور اس مقصد کے لیے انھوں نے اپنے صوبے مصر کی فوج کو طلب کیا۔

عسکری برتری

مصر ماضی میں نائب السلطنت (وائسرائے) محمد علی کی سرکردگی میں عثمانیہ سلطنت سے بغاوت کرچکا تھا۔نیز مصر کو ساڑھے پانچ سو سالہ قدیم عثمانی خلافت میں فوجی برتری حاصل تھی۔

محمد علی پاشا کے پوتے عباس پاشا کو یقین تھا کہ اگر وہ کریمیا میں لڑائی کے لیے فوجی دستے بھیجتے ہیں تو اس سے انھیں سلطان کی حمایت حاصل ہوسکتی ہے اور اس وقت انھیں اس حمایت اور سرپرستی کی اشد ضرورت تھی۔

امریکی یونیورسٹی قاہرہ میں تاریخ کے پروفیسر خالد فہمی کا کہنا ہے کہ''اس طریقے سے مصر کا حکمراں استنبول (تب دارالخلافہ) کو ممنون کرسکتا تھا۔چنانچہ اس نے کہا کہ ''میں وفادار ہوں،قابل اعتماد نائب السلطنت ہوں اور ضرورت کے وقت آپ کو کمک بھیج رہا ہوں''۔

مصر نے کریمیامیں جنگ کے لیے چالیس ہزار فوجیوں پر مشتمل ایک لشکر بھیجا۔سلطانِ ترکی جنگ میں ناکامی کا کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتے تھے،چنانچہ انھوں نے کریمیا میں روسی فوج سے لڑنے کے لیے دس ہزارتیونسی فوجیوں کا ایک دستہ بھی بھیجا تھا۔اس جنگ کی مصری جرنیل سلیم پاشا قیادت کررہے تھے اور مورخ مذکور محمود ثابت انھی سلیم پاشا کی اولاد میں سے ہیں۔

1853ء میں کریمیا میں جنگ چھڑگئی اور سلطان نے روسی فوج کے مقابلے میں برطانیہ اور فرانس سے بھی مدد طلب کی۔اس دوران مصری فوج نے 1854ء کے وسط میں سیلستریا کا محاصرہ کر لیا۔

کمک اور کمان

محمود ثابت نے بتایا کہ مصری فوج نے بعد میں اتحادی فوج کی کمک کے لیے اہم گذرگاہ یوپیٹوریا پر قبضہ کر لیا۔یہ ان کی مسلسل دوسری فوجی فتح تھی۔1855ء کے آغاز میں روس نے انیس ہزار فوجیوں اور ایک سو آٹھ توپوں کے ساتھ یوپیٹوریا کا قبضہ واپس لینے کے لیے حملہ کیا لیکن اس کا یہ حملہ ناکام رہا اور لڑائی میں جنرل سلیم پاشا سمیت چارسو مصری فوجی دادشجاعت دیتے ہوئے شہید ہوگئے۔

کریمیا کے محاذ پر روسی اور عثمانی فوج کے درمیان کوئی ڈھائی سال تک لڑائی جاری رہی تھی اوراس جنگ میں طرفین کے پانچ لاکھ سے اوپر فوجی کھیت رہے تھے۔محمود ثابت نے ایک فرانسیسی کمانڈر کے حوالے سے بتایا کہ مصری فوجی سلطنت عثمانیہ کی باقاعدہ فوج کے مقابلے میں زیادہ بے جگری سے لڑے تھے اور وہ زیادہ منظم تھے۔

روسی فوج کے خلاف کریمیا میں لڑائی میں حصہ لینے کے لیے مصر سے مسلسل کمک کی آمد جاری رہی تھی اور یہ جنگ روس کی شکست پر منتج ہوئی تھی۔اس کے خاتمہ پر1856ء میں تمام مصری دستے کریمیا سے وطن لوٹ گئے تھے۔