.

ہالی وڈ کی بہترین اداکارہ کیٹ بلینچٹ کی مصر میں جلوہ گری!

مصر میں ''بیک گراؤنڈ'' اداکارہ ہالی وڈ میں ''ٹاپ'' ایوارڈ کی حامل ہوگئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ اتوار کو لاس اینجلس میں اکیڈمی ایوارڈز کی رنگا رنگ تقریب میں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ پانے والی آسٹریلوی اداکارہ کیٹ بلینچٹ کے نام کا اب میڈیا میں چرچا ہے لیکن یہ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ وہ اپنے فلمی سفر کے آغاز میں مصر میں بھی اپنے فن کا جادو جگا چکی ہیں۔

یہ تئیس، چوبیس سال پرانی بات ہے۔ 1990ء میں کیٹ بلینچٹ کو ایک مصری فلم ''کبریا'' میں کام کی پیش کش کی گئی تھی۔ تب ان کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ کیٹ نے اس فلم میں نعرے بازوں کی ایک لیڈر کے طور پر کردار ادا کرنا تھا۔

اس فلم میں مصر کے معروف اداکار احمد زکی کام کر رہے تھے اور یہ سلور سکرین پر کیٹ بلینچٹ کی بالکل ابتدائی پرفارمنس تھی۔ البتہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا کہ وہ امریکی کا کردار ادا کر رہی تھیں۔

فلم میں کیٹ پر ایک گانا فلمایا گیا تھا اور انھوں نے اپنی مختصر پرفارمنس کے دوران اس گانے پر ڈانس کیا تھا۔ بعد میں یہ مصری پاپ کلچر کی جدید تاریخ کا سب سے مقبول گانا ثابت ہوا تھا۔

اس فلم کے لکھاری اعصام الشمع نے العربیہ نیوز چینل کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ''تب کیٹ کوئی زیادہ پرکشش نہیں تھیں۔ وہ اس وقت پس پردہ کردار ہی نبھا رہی تھیں اور انھیں جو کہا جاتا تھا، وہ صرف وہی کر سکتی تھیں''۔ تب کوئِی بھی یہ پیشین گوئِی نہیں کر سکتا تھا کہ یہ محترمہ آنے والے وقت میں بہترین اداکارہ کے ایوارڈ کی مستحق ٹھہریں گی۔

کیٹ بلینچٹ نے گذشتہ سال ایک انٹرویو میں اپنے ماضی پر تھوڑی بہت روشنی ڈالی تھی اور یہ بتایا تھا کہ وہ مصر کیسے جا پہنچی تھیں۔ انھوں نے بتایا تھا کہ میں براستہ مصر سفر کر رہی تھی اور آکسفورڈ نامی ایک ہوسٹل میں مقیم رہی تھیں۔

کیٹ کے ایجنٹ نے مصری فلمی صنعت کی کسی شخصیت کے ساتھ رابطہ کیا تھا۔ انھیں ایک ایسے شخص کی تلاش تھی جو امریکی کا کردار ادا کر سکے۔ انھوں نے اس کے جواب میں کہا کہ ''بہتر میرے والد امریکی ہیں۔ وہ پانچ مصری پاؤنڈ اور مفت فلافل (مرغی کے گوشت کے کوفتے) کی پیش کش کر رہے تھے۔ میں نے نعرے باز کا کردار ادا کرنا تھا ۔یہ ایک باکسنگ فلم تھی۔ کوفتے تو کبھی نہیں آئے تھے، اس لیے میں وہاں سے آ گئی تھی''۔

انھیں تب زیادہ پتا نہیں تھا کہ فلم کا یہ کردار منفعت بخش ثابت ہو گا۔ کیٹ کے اس بیان پر شمع نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس فلم کے پس پردہ کرداروں کو فلم کے دوسرے کرداروں کے مقابلے میں بھاری رقوم دی گئی تھیں۔

کیٹ بلینچٹ کو ووڈی ایلن کی فلم ''بلیو جیسمین'' میں کردار پر بہت اداکارہ کا ایوارڈ دیا گیا ہے۔ انھوں نے ایک نیویارکر خاتون کا کردار دا کیا ہے جس کا خاوند مالی بحران کا شکار ہو جاتا ہے اور وہ عرش سے فرش پر آ رہتے ہیں''۔ ان کے اس کردار کو سراہا گیا اور انھیں اتوار کو آسکرایوارڈز کی تقریب میں سب سے بہترین اداکارہ چن لیا گیا ہے۔