عراقی وزیر کے بیٹے کے لیے طیارے کی دوران پرواز واپسی

بیروت سے آمدہ طیارے کو بغداد ہوائی اڈے پراترنے کی اجازت دینے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

دنیا کے مطلق العنان حکمرانوں کی سرکاری وسائل کو اپنی ذاتی منفعت کے لیے بروئے کار لانے کی خبریں تو آئے دن منظرعام پر آتی رہتی ہیں لیکن بدقسمتی یا خوش قسمتی سے اسلامی ممالک کے ارباب اقتداروسیاست اس معاملے میں سب سے آگے ہیں۔

پاکستانی وزرائے اعظم کے بیٹوں کو بندر کا ناچ دکھانے اور دوسرے شہروں سے مرغوب کھانے منگوانے کے لیے کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹروں کے استعمال کی خبریں تو میڈیا کی زینت بن چکی ہیں۔اب ایک عراقی وزیرصاحب کے بیٹے کی دوران پرواز مسافر طیارے کو ہوائی اڈے پر اترنے کی اجازت نہ دینے اور اس کو دوران پرواز واپس بلانے کی دلچسپ خبر سامنے آئی ہے۔

عراقی وزیر کے یہ صاحب زادہ صاحب بیروت کے ہوائی اڈے سے بغداد جانے والے مسافر طیارے میں سوار ہونے سے رہ گئے تھے۔بس پھر کیا ہوا۔صاحب زادہ بگڑ گئے اور انھوں نے اپنے دارالحکومت بغداد فون کردیا اور حکام سے کہا کہ اس طیارے کو ہوائی اڈے پر اترنے نہ دیا جائے اور واپس بھیجا جائے۔چنانچہ اس طیارے کا پرواز کے اکیس منٹ کے بعد دوبارہ بیروت کی جانب رُخ موڑ دیا گیا۔

اس اجمال کی تفصیل مسافر طیارے کی مالک کمپنی مڈل ایسٹ ائیرلائنز(ایم ای اے) کے قائم مقام چئیرمین مروان صالحہ نے بتائی ہے۔انھوں نے بتایا ہے کہ پرواز نے طے شدہ شیڈول کے مطابق جمعرات کو 12:40 پر اڑان بھرنا تھی لیکن اس میں چھے منٹ کی تاخیر کردی گئی کیونکہ عراق کے وزیرٹرانسپورٹ ہادی العامری کے بیٹے مہدی العامری اور ان کا دوست سوار ہونے سے رہ گئے تھے۔اس دوران ایم ای اے کا عملہ انھیں بزنس لاؤنج میں ڈھونڈتا رہا۔ان کے لیے ضروری اعلانات بھی کیے گئے مگر وہ طیارے میں سوار ہونے کے لیے نہیں آئے''۔

انھوں نے بتایا کہ طیارے کے اڑان بھرنے کے بعد مہدی عامری گیٹ پر آئے اور غصے سے بولے:''میں طیارے کو بغداد میں اترنے نہیں دوں گا''۔بیروت کے ہوائی اڈے سے پرواز کے اکیس منٹ کے بعد بغداد کے ائیرپورٹ اسٹیشن مینجر نے ایم ای اے آپریشنز کو فون کیا اور کہا کہ ان کے لیے ہوائی اڈے پر کلئیرینس نہیں ہے۔چنانچہ طیارہ واپس بیروت آگیا اور اس میں سوار مسافروں کو اتار دیا گیا۔

مروان صالحہ نے اس واقعہ کو اقرباپروری کا شاخسانہ قراردیا ہے اور کہا ہے کہ اب جمعہ سے عراق کے لیے پروازیں بحال ہونے کی توقع ہے کیونکہ جمعرات کو اس واقعہ کے بعد عراق کے لیے بیروت سے کوئی پرواز نہیں بھیجی گئی۔

واضح رہے کہ عراق کے ٹرانسپورٹ کے وزیر ہادی العامری بدرتنظیم کے سربراہ ہیں۔یہ ماضی میں اہل تشیع کی مسلح ملیشیا رہی ہے لیکن اب وہ سیاسی تنظیم میں ڈھل چکی ہے اور وزیراعظم نوری المالکی کی اتحادی ہے۔بہت سے عراقیوں کا یہ کہنا ہے کہ ان کے ملک کی سیاسی جماعتوں کے لیڈر،حکام اور منتخب نمائندے ایسے کردار کا مظاہرہ کرتے ہیں جیسے وہ قانون سے بالاتر ہوں۔

عراق کی ٹرانسپورٹ وزارت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بیروت سے آنے والے طیارے کو واپس بھیجا گیا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ ایسا ہوائی اڈے پر صفائی کی وجہ سے ہوا ہے اور وزیر صاحب کے بیٹے تو سرے سے اس طیارے کے مسافر ہی نہیں تھے۔

ٹرانسپورٹ وزیر کے میڈیا مشیر کریم النوری کا کہنا ہے کہ ''ہوائی اڈے پر صفائی ستھرائی کا کام ہورہا تھا اور خصوصی اقدامات کیے جارہے تھے۔ہم نے تمام پروازوں سے صبح نوبجے کے بعد بغداد کے ہوائی اڈے پر نہ اترنے کے لیے کہا تھا۔یہ پرواز اس وقت کے بعد آئی تھی۔اس لیے ہم نے اسے لوٹا دیا''۔

مشیر صاحب کے بہ قول ''وزیر کے بیٹے کے بارے میں اطلاع درست نہیں ہے اور وہ اس طیارے میں سوار نہیں ہونے والے تھے جبکہ وزیر بھی اس طرح کے کردار کو قبول نہیں کرتے''۔

بغداد ہوائی اڈے کے ایک عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ''فضائی ٹریفک معمول کے مطابق آ اور جارہی تھی اور جمعرات کو تیس پروازیں ہوائی اڈے پر اتریں تھیں۔صرف بیروت سے آنے والی پرواز کو لوٹایا گیا تھا''۔

اس واقعہ کی اطلاع منظرعام پر آنے کے بعد عراقیوں نے سوشل میڈیا پر وزیرہادی العامری اور ان کے بیٹے کا مضحکہ اڑایا ہے۔ڈیانا نامی ایک لڑکی نے لکھا ہے کہ ''عضئی اور ان کے باپ کی آوازیں قبروں سے آنا شروع ہوگئی ہیں''۔وہ عراق کے سابق مطلق العنان صدر صدام حسین اور ان کے بیٹے کا حوالہ دے رہی تھیں جو اس طرح کے کردار کے لیے مشہور تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں