.

عاجلانہ صحافت: پاکستانی اخبار میں مزاحیہ خبر پر مبنی حقیقی رپورٹ

ہیروڈز میں سعودیوں کے داخلے پر پابندی کی خبر 'دی نیوز' میں من و عن شائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ممالک میں اخوان المسلمون کے معاملے پر کشیدگی اور قطر کے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ ان دنوں سنجیدہ تجزیوں اور تبصروں کا اہم موضوع بن چکا ہے اور یہ اتنا سنجیدہ ہے کہ پاکستان کے ایک موقر انگریزی اخبار کے مایہ ناز ایڈیٹر اس تناظر میں طنزیہ اور مزاحیہ تحریر کو بھی حقیقی سمجھ بیٹھے ہیں اور انھوں نے عجلت میں طنزیہ تحریریں پیش کرنے والی ایک انگریزی ویب سائٹ کی ایک طنزیہ تحریر کو من وعن اپنے نام کے ساتھ شائع ہونے والے رپورٹ نما تجزیے میں نقل کردیا ہے۔

پاکستان کے انگریزی اخبار دی نیوز انٹرنیشنل نے سوموار کو ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ قطر نے سعودیوں، بحرینیوں اور اماراتیوں کے لندن میں اپنے ملکیتی ڈیپارٹمنٹل اسٹور ہیروڈز میں داخلے پر پابندی عاید کردی ہے۔
اخبار نے اس اطلاع کی بنیاد پر لکھا ہے کہ ''ہیروڈز میں عربوں کے داخلے پر پابندی سے شاید کوئی بڑی سیاسی یا تزویراتی اتھل پتھل تو نہ ہو لیکن یہ ایک ایسی توہین ہے جس کو کوئی بھی عرب شیخ یا امیر معمولی نہیں سمجھے گا''۔

اب اس پابندی اور اس خبر کی حقیقت ملاحظہ کیجیے۔ سعودی یا کسی بھی اور خلیجی ملک سے تعلق رکھنے والے کسی شہری پر ہیروڈ میں داخلے پر کوئی پابندی عاید نہیں کی گئی ہے۔ وہ پہلے کی طرح وہاں خریداری کے لیے آ اور جا سکتے ہیں۔

لیکن حقیقت میں ہوا کیا ہے۔ نیوز انٹرنیشنل نے یہ خبر طنزیہ اور مزاحیہ خبریں شائع کرنے والی ویب سائٹ ''دی پان عربیہ انکوائرر'' سے لفٹ کی تھی (اٹھائی تھی)۔ یہ ویب سائٹ اپنی چلبلی طنزیہ اور مزاحیہ تحریروں کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں بہت مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ اس ویب سائٹ نے مذکورہ خبر کے بارے میں واضح طور پر بتایا تھا کہ یہ ایک طنزیہ خبر ہے لیکن تجزیہ کار شاہین صہبائی اور دی نیوز انٹرنیشنل کے مدیران عجلت میں اس کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔

انھوں نے اپنے تجزیے میں قطر اور اس کے ہمسایہ عرب ممالک کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے ''دی پان عرب انکوائرر'' کے متعدد مزاحیہ اور طنزیہ جملوں کو من وعن شائع کردیا ہے۔ ان میں مشرق وسطیٰ کے ''بیلا کاک پٹ'' نامی فرضی تجزیہ کار کے بعض جملے بھی شامل ہیں۔

اور تو اور پاکستانی اخبار نے قطر کا ایک فرضی بیان بھی تجزیے میں نقل کردیا ہے۔ اخبار نے قطر کی مشاورتی اسمبلی کے اس فرضی بیان کے حوالے سے لکھا تھا:''یقیناً وہ اپنے سفیروں کو واپس بلا سکتے ہیں تو بلا لیں لیکن اب ہم دیکھیں گے کہ جب وہ سات منزلوں اور دو ہزار مربع میٹر میں پھیلے ہوئے تین سو تیس ڈیپارٹمنس میں بیش قیمت خریداری نہیں کرسکیں گے تو وہ کیسا محسوس کرتے ہیں''۔

اب اس طنزیہ بیان کا حقیقت سے دورپار کا تعلق نہیں لیکن پاکستانی اخبار نے کیا کمال کیا ہے کہ اس طنز کو خبر کے طور پر شائع کردیا ہے۔ دراصل یہ اسٹوری گذشتہ ہفتے کی حقیقی خبر سے اخذ کی گئی تھی اور حقیقی خبر یہ تھی کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے دوحہ سے اپنے اپنے سفیروں کو واپس بلانے کا اعلان کردیا تھا۔ انھوں نے یہ فیصلہ قطر کی جانب سے مصر کی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کی حمایت جاری رکھنے کے ردعمل میں کیا تھا جبکہ یو اے ای اور سعودی عرب نے اخوان کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

دی نیوز انٹرنیشنل کو ٹویٹر پر اس رپورٹ کا مضحکہ اڑائے جانے کے بعد اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے بعد میں اپنے آن لائن ایڈیشن میں تو اس کو درست کر دیا لیکن اس کا شائع شدہ ورژن اسی طرح اس کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ اس اخبار کے ذمے داران سے جب اس سلسلے میں بات کی کوشش کی گئی تو انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

اخبار تو خلیجی عرب ممالک کے درمیان باہمی کشیدگی پر مبنی طنزیہ خبر سے حظ اٹھانے سے محروم رہا ہے لیکن دی پان عربیہ انکوائرر کے لکھاریوں میں سے ایک نے اس کا مزید مضحکہ اڑایا ہے اور اسے اپنی کامیابی قرار دیا ہے۔

اس لکھاری نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''یہ ہمارے طنزیہ کام کی مقبولیت کا بین ثبوت ہے کہ پاکستانی اخبار دی نیوز انٹرنیشنل تازہ بہ تازہ فرضی خبروں کا ہمیں ایک ذریعہ سمجھ رہا ہے۔ ہم ان کے فیصلے کو سراہتے ہیں کہ انھوں نے ہمارے صحافیوں پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کیا اور انھوں نے کوئی ایک لفظ تبدیل کیے بغیر بھی ہماری فرضی خبر کو شائع کر دیا اور یہ تحقیق کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی ہم جس ذریعے کا حوالہ دے رہے ہیں، اس کا کوئی حقیقی وجود بھی ہے یا نہیں''۔