.

سعودی کرتب باز ڈرائیور کو 1000 کوڑوں، 10 سال قید کی سزا

ریاض کی عدالت نے استغاثہ کی سزائے موت سنانے کی استدعا مسترد کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی ایک عدالت نے ڈرائیوری کے کرتب دکھانے والے نوجوان کو دس سال قید اور ایک ہزار کوڑوں کی سزا سنائی ہے اور اس پر تاحیات ڈرائیونگ پر پابندی عاید کردی ہے۔

اس تئیس سالہ نوجوان نے یوٹیوب پر اپنی ڈرائیوری کے کرتبوں کی ویڈیوز پوسٹ کی تھیں۔ان میں وہ اپنی کار کو تیز رفتاری سے دو پہیوں پر چلا رہا ہے اور بعض مرتبہ سامنے سے آنے والے ٹریفک کی جانب تیزی سے کار کو بھگاتا ہوا لے جارہا ہے۔اس کو اس کے دوستوں نے ''شاہ نظیم''کا نام دے رکھا ہے۔

ایک ویڈیو میں اس نے اور اس کے دو دوستوں نے مشین گنیں اٹھا رکھی ہیں اور وہ دن دہاڑے ہوائی فائرنگ کررہے ہیں۔وہ ڈرائیوری کے کرتب دکھانے کے دوران اپنے ساتھ سوار ایک نوجوان کی موت کا بھی سبب بنا تھا۔اس کے اس ناروا رویے اور شہریوں کے لیے وبال جان بن جانے کے خلاف ریاض کے بہت سے مکینوں نے شکایات کی تھیں۔

ریاض کی تین رکنی عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل کے اس کرتب باز کو سزائے موت دینے کے مطالبے کو تسلیم نہیں کیا اور اس نے دو ایک کی اکثریت سے اس کو دس سال قید اور ایک ہزار کوڑوں کی سزا سنائی ہے۔پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کے فیصلے پر اعتراض کیا ہے اور مدعا علیہ کو سزائے موت دینے پر اصرار کیا ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اس کے کرتبوں کی وجہ سے ایک شخص کی موت واقع ہوگئی تھی۔

واضح رہے کہ ریاض کی خفیہ پولیس نے اس کرتب باز ڈرائیور کو نومبر 2012 میں دارالحکومت کے نواحی علاقے سے گرفتار کیا تھا۔اس کے گھر سے اکیس ٹائر، مختلف آلات اور نمبر پلیٹیں برآمد ہوئی تھیں۔وہ ان پلیٹوں کو پولیس کی پکڑ سے بچنے کے لیے استعمال کیا کرتا تھا۔پولیس افسروں نے اس کے گھر سے جعلی شناختی کارڈز اور دوسری دستاویزات بھی برآمد کی تھیں۔