"الجزیرہ" کا اخوان المسلمون سے تعلق کا انکار

قطری چینل نے یواے ای کی ''خفیہ فائل'' کے دعووں کو مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

قطر میں قائم الجزیرہ نیوز نیٹ ورک نے اخوان المسلمون سے کسی قسم کے تعلق سے انکار کیا ہے اور اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اس نے مصر سے تعلق رکھنے والی اس مذہبی سیاسی جماعت کے ساتھ مل کر عرب دنیا کے طلبہ کو ان کی حکومت کے خلاف کھڑا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

متحدہ عرب امارات سے شائع ہونے والے اخبار الرؤیا نے اپنی اتوار کی اشاعت میں ایک ''خفیہ فائل'' کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ اسلامی تحریک اور الجزیرہ ایک ایسے منصوبے پر عمل پیرا ہیں جس کے تحت وہ دستاویزی فلمیں اور ٹیلی ویژن سیریز بنا کر پیش کررہے ہیں اور ان میں عرب نوجوانوں اور خاص طور پر طلبہ کو مخاطب کیا جارہا ہے۔

اخبار نے اس خفیہ فائل کو حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور اس کو پہلی مرتبہ شائع کیا ہے۔اس میں اخوان المسلمون کی عالمی تنظیم کے 2008ء سے دوحہ کی حمایت سے شروع کیے گئے سازشی منصوبے کا انکشاف کیا گیا ہے اوراس کو قطر کے الجزیرہ چینل کے ذریعے بروئے کار لایا جارہا ہے۔

اخبار کے مطابق اخوان المسلمون کے مبینہ ''نوجوان باغی منصوبہ''میں عرب دنیا خاص طور پر خلیجی خطے کی حکومتوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔اس نے لکھا ہے کہ ''فائلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطر کو عرب خطے میں اخوان المسلمون کی سوچ کا گڑھ بنا دیا گیا ہے''۔

اخوان المسلمون کی فائل کو ''عرب دنیا میں طلبہ تحریک کی تاریخ کا دستاویزی منصوبہ'' کا نام دیا گیا ہے اور اس کے تحت اخوان کی عالمی تنظیم 2008ء سے الجزیرہ کے ذریعے ایسی ٹیلی ویژن سیریز اور ویڈیوز تیار کرارہی ہے جن میں قومی جدوجہد میں طلبہ تحریکوں کے کردار کو اجاگر کیا گیا ہے۔

الرؤیا کی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کا مقصد طلبہ شخصیات کو ڈھونڈ نکالنا اور حکومتوں اور رجیموں کے طلبہ تحریکوں کے ساتھ کردار کو اجاگر کرنا تھا لیکن الجزیرہ نے اخوان المسلمون کے ساتھ مبینہ تعاون کے اس منصوبے کو نان سینس قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔نیٹ ورک کے ایک ترجمان نے اس الزام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ''ہماری ادارتی آزادی اور سالمیت ہمارے اور ہمارے ناظرین کے لیے زیادہ مقدس ہے''۔

الرؤیا کے قائم مقام مدیراعلیٰ محمد تیونسی نے العربیہ کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے مذکورہ دستاویز کے مصدقہ ہونے پر اصرار کیا ہے اور کہا ہے کہ ہم اس وقت تک ایسی کوئی چیز شائع نہیں کرتے جب تک ہمیں اس کے مصدقہ ہونے کی تصدیق نہیں ہوجاتی۔اعتباریت اور ساکھ کسی بھی میڈیا ذریعے کی جانچ کا پیمانہ ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ''یہ دستاویز بہت ہی خاص اور قابل اعتبار ذرائع سے حاصل کی گئی تھی۔اس میں اخوان المسلمون کی حکمت عملیوں میں سے ایک کو اجاگر کیا گیا ہے جس کے تحت نوجوانوں کو بالعموم اور طلبہ کو بالخصوص مخاطب کیا جاتا ہے۔

مدیر اعلیٰ نے کہا کہ ''اس دستاویز کے مضمرات بہت واضح ہیں اور اس کے لیے کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔ہمیں جو کچھ ملا،اس میں دلچسپ چیز اس کا وہ حصہ تھا جس میں الجزیرہ نے اخوان المسلمون کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا تھا اور اس دستاویز کا جو حصہ شائع کیا گیا ہے،اس میں یہ بات بہت واضح تھی''۔

انھوں نے العربیہ کو بتایا کہ ''یہ فائل بہت بڑی تھی اور اس میں مختلف ایشوز پر روشنی ڈالی گئی ہے۔میرے خیال میں جو لوگ اخوان المسلمون کے بارے میں علم رکھتے ہیں،انھیں حیران ہونے کی ضرورت نہیں''۔

اسی سے متعلقہ ایک رپورٹ میں اخبار نے بیروت میں الجزیرہ کے سابقہ نمائندے بسام قدیری کے حوالے سے لکھا ہے کہ نیٹ ورک نے متعدد آزاد خیال رپورٹروں اور مدیروں کی جگہ اخوان المسلمون کے حامیوں یا اس کارکنان کو بھرتی کر لیا تھا۔

قدیری نے اخبار کو بتایا کہ''جب ہم ایک اقلیت کی حیثیت سے غیر جانبداری اور کسی واقعے کے تمام پہلوؤں کی کوریج کے حوالے سے بات کرتے تو ہمیں چینل کے فیصلہ سازوں اور بااثر لوگوں کی جانب سے یہی کہا جاتا کہ یہ ایشو ادارے کی ادارتی پالیسی کے منافی ہے''۔

قدیری نے الجزیرہ کے خطے کے اسلامی جنگجو گروپوں کے ساتھ ممکنہ تعلقات پر بھی روشنی ڈالی ہے اور 2008ء میں بیروت کے محاصرے کا حوالہ دیا ہے اور کہا ہے کہ ''محاصرے سے قبل میں ٹیلی ویژن کے بیورو کے اندر حزب اللہ کے ایک لیڈر کی موجودگی کو نہیں بھولوں گا''۔

انھوں نے کہا کہ الجزیرہ نے اس وقت اس محاصرے کی کوریج کا فیصلہ کیا جب دوسرے تمام میڈیا ذرائع غائب تھے۔انھوں نےا س شبے کا اظہار کیا ہے کہ الجزیرہ کو پہلے ہی حزب اللہ کے محاصرے کے بارے میں بتا دیا گیا تھا۔

قدیری نے کہا کہ جب ہم نے حزب اللہ کی مخالف آوازوں کو بھی کور کرنے کے لیے کہا تو بیورو چیف نے ایسا کرنے سے انکار کردیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ یہ آوازیں کوئی زیادہ معروف نہیں ہیں۔

قدیری نے دعویٰ کیا کہ الجزیرہ کے شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف برسرجنگ القاعدہ سے وابستہ گروہ النصرۃ محاذ اور دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے ساتھ قریبی تعلقات استوار ہیں۔

الجزیرہ کے سابقہ رپورٹر نے بتایا کہ شام میں عیسائی راہبات کے ایک گروپ کو اغوا کر لیا گیا تو قطر کے انٹیلی جنس چیف نے ان کی رہائی کے لیے کردار ادا کیا ہے۔سوال یہ ہے کہ الجزیرہ کو ان کی اسٹوری کا کیسے پتا چلا تھا اور اس نے ان راہبات کو اغوا کرنے والے مسلح گروپوں سے کیسے رابطہ کرلیا تھا۔

الجزیرہ کے ایک ترجمان نے قدیری کے ان دعووں کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک سابق ناراض ملازم کے دعوے ہیں اور بالکل غلط ہیں''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں