یورپی مردگان کے متروکہ ملبوسات کی سعودی بازاروں میں فروخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں جہاں انواع اقسام کے دیسی اور ولایتی نامی گرامی برانڈز کے ملبوسات کے خریداروں کا ھجوم لگا رہتا ہے وہیں مشرقی شہر جدہ کے بازاروں میں یورپی ملکوں میں جہاں فانی سے کوچ کر جانے والوں کے مہنگے اور معیاری کپڑے ارزاں نرخوں پر فروخت کیے جا رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جدہ میں خرید و فروخت کے لیے صرف یورپی مردگان کے کپڑے ہی نہیں بلکہ متوفیوں کی گھڑیاں، انگشتریاں اور دیگر لوازمات بھی شامل ہیں۔ یہ تمام مال گو کہ نیلام کیا جا رہا ہے لیکن اس کے بہترین عالمی معیار میں کوئی ابہام نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق خوش لباس سعودی باشندوں کے لیے یورپی شہریوں کے استعمال میں رہنے والے نہایت گراں قیمت ملبوسات خاص توجہ کا مرکز ہیں۔ یورپی شہریوں نے جو ملبوسات ہزاروں ڈالر کی قیمت میں خرید کیے ہوتے ہیں وہ معمولی استعمال کے بعد جدہ کے بازاروں میں محض چند ریال میں فروخت کیے جا رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جدہ کے ایک بازار میں نیلامی کے لیے پیش کردہ ملبوسات کی خریداری سے قبل گاہک باقاعدہ چھان بین کے بعد خرید کرتے ہیں۔ اس دوران گاہک عام طور پر اپنے پسند کے کپڑوں کے بارے میں یہ جان کاری کرتے ہیں کہ یہ کس آنجہانی یورپی باشندے کے استعمال میں رہے ہیں؟ ملبوسات میں پینٹ کوٹ، تھری پیس سوٹ، ٹراؤزر، شرٹس، ٹی شرٹس اور شلوار قمیص شامل ہیں۔

جدہ کے علاوہ مکہ مکرمہ، ریاض اور دوسرے بازاروں میں ایسی مصنوعات دستیاب ہیں۔ سعودی عرب میں یورپی شہریوں کے استعمال شدہ ملبوسات کی نیلامی کے حقیقی حجم کا اندازہ تو نہیں کیا جا سکتا لیکن سنہ 2009ء کی ایک رپورٹ کے مطابق سالانہ 255 ٹن کپڑے یورپ سے لائے جاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں