سعودی عالم نے کھلے بوفے کے خلاف فتویٰ کی تردید کردی

بوفے نہیں بلکہ کھانے کی ''نامعلوم''مقدار کے خلاف بات کی تھی:شیخ صالح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ صالح الفوزان نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ انھوں نے کھلے بوفے پر پابندی کے لیے کوئی فتویٰ جاری کیا ہے۔ان کے بہ قول انھوں نے تو صرف یہ کہا تھا کہ کھلے بوفوں میں کھانے کی مقدار کا تعین کیا جانا چاہیے تاکہ لوگ ''نامعلوم''مقدار کو خرید نہ کریں۔

گذشتہ ہفتے میڈیا پر آنے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ شیخ صالح الفوزان نے سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے قرآن ٹی وی پر ایک پروگرام کے دوران ایک فتویٰ جاری کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ بوفے میں کھلے عام کھانا خلاف اسلام ہے۔بوفے میں کھانے کی مقدار کو فروخت سے پہلے واضح کیا جانا چاہیے اور خریدار کو پتا ہونا چاہیے کہ وہ کیا خرید کررہا ہے۔

شیخ صالح نے منگل کو اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں اس رپورٹ کی تردید کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''یہ مجھ سے منسوب کیا گیا ہے کہ میں نے بوفے کی ممانعت کردی ہے۔یہ ایک کھلا جھوٹ ہے جو خیال آرائی پر مبنی اور من گھڑت ہے''۔

انھوں نے لکھا:''حقیقت یہ ہے کہ مجھ سے بعض ریستورانوں میں بوفوں میں پیش کیے جانے والے کھانوں کے حوالے سے پوچھا گیا تھا جہاں مالکان اپنے گاہکوں سے ایک مخصوص رقم کی ادائی کے بدلے میں پیش کیے گئے مختلف کھانوں میں سے کھانے کے لیے کہتے ہیں۔میں نے اس پر یہ کہا تھا کہ یہ نامعلوم ہے اور نامعلوم کو اس وقت تک بیچا نہیں جاسکتا جب تک اس کا تعیّن اور شناخت نہ کردی جائے''۔

بوفے میں پیش کیے جانے والے انواع واقسام کے کھانوں کی غیر متعین مقدار کے خلاف اس فتویٰ یا بیان کے بعد سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک نئی بحث چھڑ گئی تھی اور بعض لکھاریوں نے اس فتوے کا مضحکہ اڑایا تھا۔رپورٹ کے مطابق علامہ فوزان نے التحیر چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''جو حضرات بھی دس یا پچاس ریال کے بدلے میں بوفے کے لیے جاتے ہیں اورکھانے کی مقدار کا تعیّن نہیں کرتے تو وہ خلاف شرع (غیر اسلامی) کھانا کھاتے ہیں''۔

ٹویٹر پر بوفے کی ممانعت کے عنوان سے ہیش ٹیگ کے تحت اس فتوے کے حق اور مخالفت میں لکھاری اظہار خیال کررہے ہیں۔ایک صاحب نے لکھا کہ''ریستورانوں نے اگر فروخت کیے جانے والے کھانوں کی مقدار واضح نہ کی تو وہ تباہ ہوجائیں گے کیونکہ یہ شیخ کے اصول کی نفی ہوگی کہ کھانے کی مقدار نامعلوم ہے''۔

ایک اور نے لکھا کہ'' یہ محض ایک فتویٰ ہے،قرآن نہیں ہے۔اگر آپ اس کی پیروی کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس میں آزاد ہیں لیکن آپ اس کو دوسروں پر مسلط نہیں کرسکتے''۔

ایک اور صاحب نے اس کا مضحکہ اڑاتے ہوئے ٹویٹ کیا:''مبارک ہو۔اب کھلا بوفے بھی ان اشیاء کی فہرست میں شامل ہوگیا جو ہمارے لیے ممنوع ہیں''۔

بعض لکھاریوں نے شیخ صالح کے فتویٰ کی حمایت کی ہے اور انھوں نے ان کی ذات پر چھینٹے اڑانے والوں کی خوب خبر لی ہے۔ان میں سے ایک صاحب نے لکھا:''یہ بات مضحکہ خیز ہے کہ جنھوں نے اس موضوع پر بحث کی دعوت دی ہے،وہ شواہد یا شیخ کی تجویز پر بات کرنے کے بجائے ان کی شخصیت پر اظہار خیال کررہے ہیں''۔

فتوے کے ایک اور حامی نے لکھا:''المیہ یہ ہے جو لوگ شیخ پر تنقید کررہے ہیں،وہ جاہل ہیں اور کچھ بھی نہیں جانتے''۔اس فتوے پر بحث ٹویٹر یا سماجی روابط کی دوسری ویب سائٹس تک ہی محدود نہیں رہی ہے بلکہ بعض مقامی اور غیر ملکی اخبارات اور ویب سائٹس نے اس کو نمایاں سرخی کے ساتھ شائع کیا ہے۔

سعودی اخبار المدینہ نے بدھ کو یہ سرخی شائع کی تھی۔''اوپن بوفے کی ممانعت کے فتویٰ نے ٹویٹر پر طوفان پر برپا کردیا''۔مصری نیوز سائٹس صداالبلد اور نواریت نے بھی یہ اسٹوری شائع کی تھی اور اس کے ساتھ علامہ فوزان کے فتویٰ والی ویڈیو بھی اپ لوڈ کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں