.

تعطیلات کے دوران کریمیا کے طالب علموں کی 'شہریت' بدل گئی

چھٹیوں سے قبل کریمیا کے طلباء یوکرائن اور واپسی پر روسی شہری تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوکرائن میں گذشتہ ماہ اٹھنے والے سیاسی بحران نے نہ صرف ملک کو تقسیم کر کے رکھ دیا بلکہ ملک کی آبادی بھی ایک نئے مخمصے میں مبتلا ہے۔ بالخصوص روس سے الحاق کرنے والی ریاست کریمیا کے طلباء کو ایک نئی صورت حال کا سامنا ہے۔ موسم بہار کی تعطیلات سے قبل طلباء یوکرائن کے شہری تھے لیکن چُھٹیاں گذار کر سکول واپس ہوئے تو اُنہیں بتایا گیا کہ اب آپ یوکرائن نہیں بلکہ روس کے شہری ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے"رائیٹرز" کے مطابق روس کی جانب سے کریمیا کو اپنا حصہ قرار دینے اور فوج کے ذریعے جزیرہ نما کریمیا کی تمام اہم تنصیبات پر قبضے کے محض تین دن بعد سیفاسٹوپول شہر کی ایک معلمہ نئے ملک اور نئی حکومت کے سائے تلے اپنے اسکول نمبر 15 میں داخل ہوئی۔ خاتون ٹیچر نے اپنے طلباء کی توجہ روسی نقشے کی طرف مبذول کراتے ہوئے کہا کہ " آج ہم اپنے درس کا آغاز ایک نئے ملک میں کر رہے ہیں۔ آئیے پہلے اپنے اس نئے وطن عزیز کے نقشے پر ایک نگاہ ڈال لیتے ہیں"۔ اس کے ساتھ ہی تمام طلباء روس کے قومی ترانے کے احترام میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان کی نظریں سامنے دیوار پر لگے روسی پرچم پر مرکوز ہیں۔

کریمیا کے باشندوں کے لیے یہ سب اچانک اور غیر یقینی تھا لیکن انہیں اسے قبول کرنے میں زیادہ تامل نہیں کرنا پڑا۔ اسکول کی پرنسپل نینا چیفٹ سوفا نے اسکول کے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "آج ہمارے تدریسی سیشن کا چوتھا مرحلہ شروع ہو رہا ہے۔ میرے سامنے ایسے طلباء موجود ہیں جو موسم بہار کی تعطیلات سے قبل یوکرائنی تھے لیکن آج وہ روس کے باشندے ہیں۔ ہمیں اس تبدیلی پر خوشی ہے کیونکہ یہ ہمارے لئے ایک بیش قیمت تحفے سے کم نہیں ہے۔

یوکرائن نے روس کے سامنے شکست قبول کرتے ہوئے گذشتہ روز اپنی فوج اور شہریوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ ماسکو نے گذشتہ ہفتے کریمیا میں اپنی فوجیں داخل کر کے اس کے آخری فوجی اڈے پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔ کریمیا میں اسکول کھلنا شروع ہو گئے اور زندگی ایک مرتبہ پھر معمول پر آ رہی ہے۔