.

"پنکچر لوشن" چاکلیٹ کی طرح پینا یمنی مکینک کا معمول

ویڈیو سامنے آنے پر ماہرین نے 'شوق' کو نفسیاتی مرض قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں کچھ ہی عرصہ قبل پٹرول کے کئی گیلن پینے والے سعودی شہری نے میڈیا میں شہرت حاصل کی تھی۔ اب حال ہی میں سامنے آنے والی ویڈیو فوٹیج میں یمنی شہری کو ٹائر پنکچر لوشن کو منہ میں انڈیلتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ ویڈیو کے اندر سعودی عرب کی ایک کار ورکشاپ میں کام کرنے والا یمنی مکینک پنکچر لوشن کا ایک پورا ڈبہ چاکلیٹ کی طرح نگلتے دیکھا جا سکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر سعودی عرب اور کئی دوسرے ممالک کے باشندوں کی خلاف معمول عادات پر مشتمل کئی ویڈیوز مقبول ہیں۔ کچھ لوگوں کو سانپ اور بچھو جیسے زہریلے کیڑوں حتیٰ کہ شیشے کے ٹکڑے کھاتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ عوام میں اس نوعیت کے واقعات پر مشتمل ویڈیوز جہاں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں وہیں معاشرے میں ایسی ما فوق الفطرت عادات کے حامل لوگوں کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔

کچھ لوگ اسے ایک سماجی مسئلہ اور کچھ انسان کی شہرت کی خواہش کا نتیجہ قرار دیتے ہیں لیکن طبی ماہرین کی رائے میں ایسی کسی بھی خلاف معمول عادت میں مبتلا افراد دراصل نفسیاتی مریض ہوتے ہیں۔

جدہ یونیورسٹی اسپتال کے میڈیکل ایڈوائز ڈاکٹرعبدالرحمان الشیخ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ پیٹرول پینے، سانپ اور بچھو نگلنے اور شیشوں کے ٹکڑے کھانے والے لوگ نفسیاتی امراض کا شکار ہوتے ہیں۔ ہمیں ان کے خلاف عادت معمولات پر کوئی اور نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہیے بلکہ ایسے لوگوں کا نفسیاتی علاج ہونا چاہیے۔ نفسیاتی امراض کے ماہرین کو عموما اس نوعیت کے مریضوں کے کیسز کا سامنا کرنا پڑتاہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عبدالرحمان الشیں کا کہنا تھا کہ جب نفسیاتی مرض ایک خاص حد سے آگے نکل جاتا ہے تو مریض سے خلاف واقعہ عادات کا ظہور شروع ہو جاتا ہے۔ پھر وہ اپنے اندر ایسے کسی بھی کام کی قوت خود ہی محسوس کرتا ہے جسے عام حالات میں کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہوتا ہے۔ پھر اس کے لیے گاڑیوں کا تیل پی جانا، گریس، سانپ اور بچھو کھا جانا کوئی مشکل نہیں رہتا اور ایسا کرنے سے ان کی صحت پر کوئی منفی اثر بھی نہیں پڑتا۔ ایسے خلاف عادت لوگوں کی مزید حوصلہ افزائی کے بجائے ان کا نفسیاتی معائنہ کرایا جانا چاہیے۔