چاکلیٹ کمپنی کا مالک یوکرین کا مضبوط صدارتی امیدوار!

ارب پتی پوروشنکو نے کاروباری کیریئر انتہائی قلیل وسائل سے کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

یوکرین میں انقلاب کے بعد نئے صدارتی انتخابات میں ویسے تو کئی امیدوار قسمت آزمائی کر رہے لیکن ارب پتی کاروباری شخصیت پٹرو پورو شنکو پر قسمت کی دیوی مہربان دکھائی دیتی ہے اور وہ اب تک کے مضبوط ترین صدارتی امیدوار کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ملک کی پچیس فی صد اور بعض سروے رپورٹس کے مطابق چالیس فی صد لوگ پوروشنکو کو پچیس مئی 2014ء کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں ووٹ دینے کے حامی ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے ایک رپورٹ میں پٹرو پوروشنکو کے سیاسی اور کاروباری کیریئر پر روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پوروشنکو یوکرین کے 10 امیر ترین افراد میں سے ایک ہیں۔ بزنس جریدے "فوربز" نے پورشنکو کی دولت 1.3 ارب ڈالر سے زیادہ کا تخمینہ لگایا ہے۔

اڑتالیس سالہ پوروشنکو 'سیلف میڈ' انسان ہیں۔ انہوں نے سنہ 1990ء میں گریجوایشن کے بعد انتہائی قلیل سرمائے سے ناریل کے تیل کا کاروبار شروع کیا لیکن شبانہ روز محنت کے نتیجے میں ان کا کارونار روز افزوں ترقی کرنے لگا جس کے بعد ان کا شمار ملک کے امیر ترین لوگوں میں ہونے لگا۔

یوکرین میں ان کا سب سے بڑا کاروبار چاکلیٹ بنانے کے کارخانوں پر مشتمل ہے۔ وہاں تیار ہونے انواع واقسام کی چاکلیٹس یورپی منڈیوں تک جاتی ہیں۔ یورپ نواز پوروشنکو کے عالمی اقتصادی اداروں کے ساتھ بھی مضبوط تعلقات قائم ہیں۔

وہ سیاست میں بھی مبتدی نہیں بلکہ اس سے قبل وہ کئی اہم شعبوں کی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ سابق صدر ویکٹور یانوکووچ کے عہد میں اُنہیں وزیر اقتصادیات اور بعد ازاں مرکزی بنک کا چیئرمین مقرر کیا گیا جبکہ مغرب نواز صدر ویکٹور یوشنکو کے عہد میں وہ ملک کے وزیر خارجہ بھی رہ چکے ہیں۔

حکومتی عہدوں اور کاروبار کو ایک ساتھ کامیابی سے چلاتے ہوئے پٹرو پوروشنکو کو کرپشن کے الزامات کا بھی سامنا رہا لیکن ان کے خلاف بدعنوانی کا کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا۔ گذشتہ جمعہ کو دارالحکومت کیف میں صدارتی الیکشن لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "قوم سے سیاست دانوں کے جھوٹ بولنے کا دور لد چکا۔ وہ ملک میں سچی اور کھری سیاست کو فروغ دینے کے لیے میدان میں اترے ہیں"۔ پٹرو نے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا تو ملک کی کئی سرکردہ شخصیات نے ان کی حمایت کی۔ حمایت کرنے والوں میں سابق باکسر فیٹالی کیلچکو بھی شامل ہیں۔

پٹرو پوروشنکو مغرب نواز ہونے کے ساتھ ساتھ روس کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ وہ واحد شخص ہیں جو عوامی مظاہروں اور ویکٹور یانووچ کے فرار کے بعد روس کے ساتھ الحاق کرنے والی ریاست کریمیا کے روس نواز قائدین سے مذاکرات کے لیے وہاں پہنچے۔ انہوں نے جزیرہ نما کریمیا کو دوبارہ یوکرین کا حصہ بنانے کا بھی عہد کیا ہے۔

ارب پتی پٹرو پوروشنکو کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے اعلان کو یوکرینی اقتصادی بحران کے خاتمے کے حوالے سے نیک شگون قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے سابق حکومتی اور کاروباری تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ پٹرو بحران زدہ ملک کو مشکل سے نکالنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

کیف میں قائم "پنٹا" نامی ایک تھینک ٹینک سے وابستہ تجزیہ نگار ولادی میر فسینکو کا کہنا ہے کہ لوگ یولیا ٹیموشنکو اور دیگر متنازعہ سیاست دانوں کے بجائے پوروشنکو کے گرد جمع ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین بزنس مین سیاست دان سے لوگوں کو توقعات وابستہ ہیں کہ وہ ملک کو موجودہ مالیاتی بحران سے نکالنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے کاربار کا آغاز صفر سے کیا اور آج ملک کے امراء میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ماضی میں انہیں جو بھی حکومتی عہدہ یا وزارت دی گئی وہ اسے کامیابی سے چلاتے رہے ہیں۔

جنوبی شہر بلغراد سے تعلق رکھنے والے پٹرو پوروشنکو نے اپنی عملی زندگی کا آغاز کاروبار سے کیا۔ انتہائی قلیل وسائل سے انہوں نے ناریل آئل کی ایک دکان سے سے سفر شروع کیا جس میں انہیں اچھا خاصا فائدہ ہوا۔ بعد میں انہوں نے سویٹس تیار کرنے والے کارخانے خرید کیے جنہیں چاکلیٹ ساز ملوں میں تبدیل کر دیا گیا۔ آج ان کارخانوں سے سالانہ 04 لاکھ 50 ہزار ٹن چاکلیٹ تیار کی جاتی ہیں۔

چاکلیٹ فیکٹریوں کے علاوہ کاریں، بسیں اور بحری جہاز تیار کرنے والا ایک بڑا کارخانہ بھی چل رہا ہے۔ اس وقت پٹرو پوروشنکو کی ملکیت میں پانچ ٹیلی ویژن چینل کام کر رہے ہیں جو انقلاب کے دوران سابق صدر ویکٹور یانوکووچ کے حامی سمجھے جاتے تھے۔ پٹرو نے سنہ 2000ء میں "ریجن پارٹی" کے قیام میں سابق وزیر اعظم ویکٹور یانووچ کی مدد کی لیکن دو ہی سال بعد وہ صدر یوشنکو کی ٹیم میں شامل ہو گئے۔

انہوں نے سنہ 2004ء کے زرد انقلاب میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس انقلاب میں وزیر اعظم یانوکوچ نے صدریوشنکو کو ہٹا کر خود منصب صدارت سنھبال لیا تھا لیکن عوامی دباؤ کے بعد یانوکووچ کو اختیارات دوبارہ صدر یوشنکو کے سپرد کرنا پڑے تھے۔ موجودہ سیاسی بحران سے قبل وہ مرکزی شہر اور دارالحکومت "کیف" کے میئر کے انتخابات میں حصہ لینے کے بھی خواہاں تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں