علامہ قرضاوی کا دوبارہ خطبہ جمعہ شروع کرنے کا اعلان

''قطر کی پڑوسی ممالک کے ساتھ کشیدگی کی وجہ سے خاموش نہیں تھا''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

مصری نژاد معروف عالم دین علامہ یوسف القرضاوی نے کئی ہفتوں کے وقفے کے بعد دوبارہ جمعہ کا خطبہ دینے کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے اس رائے کو مسترد کردیا ہے کہ وہ قطر کی اس کے پڑوسی ممالک کے ساتھ سفارتی کشیدگی کی وجہ سے خاموش تھے۔

علامہ قرضاوی نے بدھ کو برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ''میں ذاتی وجوہ کی بنا پر تقریریں نہیں کررہا تھا،اس کا موجودہ صورت حال سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''میں اگر اس جمعہ نہیں تو ان شاء اللہ اگلے جمعہ سے خطبات کا آغاز کردوں گا''۔ان سے جب سوال کیا گیا کہ کیا وہ قطری حکومت پر سفارتی دباؤ کو کم کرنے کے لیے کہیں اور جانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ وہ ایسا کچھ کرنے نہیں جارہے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ''آپ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ میں قطر کا حصہ ہوں اور وہ میرا حصہ ہے۔میں یہاں پینتالیس سال سے زیادہ عرصے سے رہ رہا ہوں۔ میں اس ریاست کا شہری ہوں''۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات علامہ قرضاوی کی حالیہ مہینوں کے دوران تندوتیز تقریروں اوربیانات سے نالاں ہیں اور انھوں نے اس ضمن میں قطر پر دباؤ بھی ڈالا تھا جبکہ قطر کی جانب سے اخوان المسلمون کی حمایت کی وجہ سے اس کے بعض ہمسایہ خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوچکے ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے فروری میں قطری سفیر کو طلب کیا تھا اور ان سے علامہ یوسف القرضاوی کے قطر کے سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے ایک بیان پر سخت احتجاج کیا تھا۔اس بیان میں انھوں نے یواے ای کو غیر اسلامی قراردے کر اس کی مذمت کی تھی۔

یواے ای کی جانب سے قطری سفیر کی طلبی کے باوجود علامہ قرضاوی راست بازی سے باز نہیں آئے تھے اور انھوں نے اس کے فوری بعد ایک خطاب میں یو اے ای کو مخاطب کرکے کہا تھا:''کیا آپ ان دوسطروں سے نالاں ہیں جو میں نے آپ کے بارے میں کہی تھیں؟اگر میں نے آپ کے اسیکنڈلوں اور ناانصافیوں کے بارے میں پورا خطبہ دے دیا تو پھر کیا ہوگا''۔

5مارچ کو سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور بحرین نے قطر میں متعین اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا تھا اور اس پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ ایک دوسرے کے داخلی امور میں مداخلت سے متعلق معاہدے کی پاسداری میں ناکام رہا ہے لیکن قطر نے اس الزام کو مسترد کردیا تھا۔

یہ تینوں ممالک قطر کی جانب سے مصری جماعت اخوان المسلمون کی حمایت پر خاص طور پر ناراض ہیں۔علامہ قرضاوی نے رائٹرز سے گفتگو میں قطر اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے کہا کہ اس ایشو کو بہت جلد طے کر لیا جائے گا۔

تاہم انھوں نے یواے ای اور سعودی عرب کی جانب سے مصر کی موجودہ حکومت کی مالی امداد پر تنقید کی اور کہا کہ ان دونوں ممالک کی جانب سے مصر کو دی جانے والی رقوم سے عوام کے معیار زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔سعودی عرب اور یواے ای نے مصر میں جولائی 2013ء میں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے مسلح افواج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت کو اربوں ڈالرز کی امداد دی ہے۔

قطر کے ان دونوں ممالک کے علاوہ مصر سے بھی اخوان المسلمون کی حمایت کے معاملے پر تعلقات کشیدہ ہوچکے ہیں اور مصر کی وزارت خارجہ نے کچھ عرصہ قبل قطر سے عبوری حکومت کے ناقدین کو حوالے کرنے کے لیے کہا تھا۔ان میں علامہ یوسف القرضاوی بھی شامل تھے۔

مصری وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ شیخ یوسف القرضاوی کے حالیہ بیانات بالکل ناقابل قبول ہیں جن میں انھوں نے کہا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے مصر کی فوجی حکومت کی حمایت غلط ہے اور اس کو اس حمایت سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔ترجمان نے علامہ یوسف قرضاوی اور اخوان المسلمون کے لیڈروں کو مصر کے حوالے نہ کرنے پر قطر کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

علامہ قرضاوی مصر کی مسلح افواج کے سابق سربراہ فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں 3 جولائی 2013ء کو منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کی شدید مخالفت کرتے چلے آ رہے ہیں۔انھوں نے کچھ عرصہ قبل ایک فتویٰ جاری کیا تھا جس میں مصریوں پر زوردیا تھا کہ وہ ڈاکٹر مرسی کو ان کے آئینی عہدے پر بحال کرائیں۔مصری حکومت نے ان کے خلاف 2011ء میں جیل کو توڑنے میں معاونت کے الزام میں مقدمہ قائم کررکھا ہے۔اسی الزام میں ڈاکٹر محمد مرسی اور اخوان کے دوسرے لیڈروں کے خلاف مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

ان کی اس وقت عمر چھیاسی برس کے لگ بھگ ہے۔پانچ عشرے قبل سابق صدر جمال عبدالناصر کے دور میں انھیں حکومت پر تنقید کی پاداش میں آبائی وطن کی شہریت سے محروم کردیا گیا تھا اور وہ تب سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں رہ رہے ہیں۔جمال عبدالناصر کے دورحکومت میں اخوان المسلمون کی قیادت اور کارکنان پر ظلم وتشدد کے پہاڑ توڑے گئے تھے اور علامہ قرضاوی کو 1950ء کے عشرے میں کئی مرتبہ جیل میں ڈالا گیا تھا جس کے بعد وہ 1961ء میں مصر سے ہجرت کرکے قطر چلے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں