.

امریکا کی''میرا''کم کاردشیان کی''خوبصورت''انگریزی

ٹویٹر پر''کسب بچائیں'' کو آرمینیا میں نسل کشی سے متعلق سمجھ بیٹھیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی مقبول اداکارہ میرا کے انگریزی زبان کی تفہیم سے متعلق دلچسپ واقعات زبان زدعام ہیں اور ان کے نئے نئے قصے آئے دن میڈیا کی زینت بنتے رہتے ہیں لیکن امریکا کی ٹی وی کی معروف شخصیت اور ریالٹی شو کی میزبان کم کاردشیان بھی انگریزی لکھنے کے معاملے میں ان سے کسی طرح پیچھے نہیں رہی ہیں اور وہ بھی خبروں میں رہنے کا ہُنر خوب جانتی ہیں۔

کم کاردشیان اپنے مداحوں کو سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی سرگرمیوں سے متعلق اطلاعات دیتی رہتی ہیں اور انھیں محظوظ کرتی رہتی ہیں لیکن اس مرتبہ اتفاقیہ طور پر وہ ایک زیادہ سنجیدہ موضوع پر اپنے کلمات عالیہ کا اظہار کربیٹھی ہیں۔

وہ شام کے سرحدی قصبے کسب سے متعلق ٹویٹر پر ہیش ٹیگ کو آرمینیا کے عیسائی آبادی والا گاؤں کساب سمجھ بیٹھیں۔ان دونوں کے انگریزی ہجے میں کے کے بعد اور ایس سے پہلےاے اور ای ہی کا فرق ہے۔کم کادشیان نے آرمینیائی گاؤں کے درست ہجے Kassab دیکھنے اور لکھنے کے بجائے شامی قصبے کے کسب کے ہیش ٹیگ پر ہی اظہار خیال فرمانا شروع کردیا۔

واضح رہے کہ وہ اپنے والد رابرٹ کاردشیان کی جانب سے آرمینیائی نژاد ہیں۔انھوں نے ٹویٹر پر لکھا کہ''اگر آپ یہ نہیں جانتے کہ کسب میں کیا ہورہا ہے تو مہربانی کرکے اس کو گوگل کریں(یعنی سرچ انجن میں سرچ کریں)ایک آرمینیائی کی حیثیت سے میں بہت ہی درناک کہانیاں سن کر پلی بڑھی ہوں''۔

کِم نے 30 مارچ کو یہ ٹویٹ کیا تھا کہ ''مہربانی کرکے تاریخ کو خود کو دُہرانے نہ دیں اور کسب کو بچائیں''۔وہ یہ تحریر لکھ کر شاید سمجھ رہی تھیں کہ وہ آرمینیائی کاز کے بارے میں شعور اجاگر کررہی ہیں لیکن انھیں یہ مہم الٹا پڑ گئی ہے۔

ہوا یہ ہے کہ اس ہیش ٹیگ کو اس سے پہلے شامی صدر بشارالاسد کے حامی اپنے بے بنیاد اور من گھڑت دعووں کی تشہیر کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔جونہی کم کاردشیان نے اس ہیش ٹیگ پر ٹویٹ کیا تو ٹویٹر کے صارفین نے ان پر شامی صدر بشارالاسد کی لحمایت کا الزام عاید کردیا۔

شامی صدر کے حامیوں نے ''سیو کسب'' ہیش ٹیگ پر یہ دعویٰ کیا تھا کہ حزب اختلاف کے جنگجوؤں نے اس قصبے میں گرجا گھروں کو مسمار کردیا ہے،ان کی بے توقیری کی ہے اور مقامی لوگوں کو تہ تیغ کردیا ہے لیکن ان کا یہ دعویٰ بعد میں غلط ثابت ہوا تھا۔باغی جنگجوؤں نے 23 مارچ کو ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع اس قصبے پر قبضہ کر لیا تھا لیکن ان کے بارے میں ایسی کوئی ٹھوس اور قابل اعتبار شہادت نہیں ملی تھی کہ انھوں نے مقامی لوگوں کو قتل کیا ہے یا گرجا گھروں کو نقصان پہنچایا ہے۔

کم کاردشیان نے اپنے ٹویٹ میں آرمینیا میں نسل کشی کی بھی بات کی تھی۔اس کے حوالے سے یہ کہا گیا ہے کہ وہ شاید کسب میں بیسیوں صدی کے آغاز میں سلطنت عثمانیہ کی فوجوں کے ہاتھوں قریباً دوہزار مقامی لوگوں کی ہلاکت کی بات کررہی تھیں۔اس کے ردعمل میں ٹویٹس پر ان کی ترجمان انا ٹریشیوکاس نے محض یہ کہنے پر اکتفا کیا ہے کہ ''وہ صرف آرمینیاؤں کی حمایت کی بات کررہی تھی اور وہ اس پر مزید کچھ نہیں کہنا چاہتی ہیں۔

قبل ازیں ہالی وڈ کی دوسری اداکارائیں اور اداکار بھی شامی بحران کے حوالے سے اظہار خیال کرچکے ہیں لیکن انھوں نے کم کاردشیان کی طرح کسی غلط فہمی کی بنا پر نہیں کیا تھا بلکہ سیدھی بات کی تھی۔پاپ گلوکارہ میڈونا نے گذشتہ ستمبر میں شام میں امریکا کی فوجی مداخلت کی مخالفت کی تھی۔انھوں نے اپنے ہاتھ سے لکھی ایک تحریر انسٹاگرام پر پوسٹ کی تھی جس میں انھوں نے امریکا سے شام سے دور رہنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس فوٹو شئیرنگ ویب سائٹ کے قریباً تیس ہزار صارفین نے صرف انیس گھنٹے کے وقت میں میڈونا کے مطالبے کو پسند کیا تھا۔امریکی اداکارہ علیسیا میلانو نے اپنے مداحوں کی توجہ شامی بحران کی جانب مبذول کرانے کے لیے عجیب وغریب حربہ استعمال کیا تھا۔انھوں نے اسی ہفتے اپنی ایک نازیبا ٹیپ کو جاری کرنے سے متعلق ٹویٹ کیا تھا۔جونہی وہ کیمرے کے سامنے اپنی اس نازیبا ٹیپ کی تیاری کے لیے مصروف ہوتی ہیں تو کیمرے کا رُخ ایک ٹیلی ویژن سکرین کی جانب موڑ دیا جاتا ہے جس پر شام کے بارے میں خبر نشر ہورہی ہوتی ہے۔واضح رہے کہ شام میں گذشتہ تین سال سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔