الہٰ دین میں عربوں کی عدم موجودگی پر ڈزنی کو تنقید کا سامنا

شو کی کاسٹ میں شامل 34 فن کاروں میں ایک بھی مشرق وسطیٰ سے تعلق نہیں رکھتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

قصہ الہٰ دین کے چراغ کا ہو یا الف لیلہ ولیلہ کی ہزار داستانیں،یہ جہاں بھی پہنچیں،انھیں دلچسپی سے پڑھا اور سنا جاتا ہے اور اگر ان کو ڈرامائی شکل دی جائے تو پھر بچے بوڑھے سبھی انھیں بڑے شوق سے دیکھتے ہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ ان کے کردار عربی النسل یا عرب وضع وقطع کے حامل ہی ہوتے ہیں۔

اب کہ امریکا میں ڈزنی تھیٹر کمپنی کے زیر اہتمام الہٰ دین کو اسٹیج کیا جارہا ہے۔اس کی کہانی تو الف لیلہ سے ہی ماخوذ ہوسکتی ہے لیکن اس میں کسی بھی عرب یا عرب نژاد فن کار کو اپنے فن کے جوہر دکھانے کا موقع نہیں دیا گیا۔

عربوں سے اس طرح اغماض برتنے پر ڈزنی کو تنقید کا سامنا ہے اور اس پر نسل پرستی کو فروغ دینے کے بھِی الزامات عاید کیے گئے ہیں۔مارچ میں براڈوے کے زیراہتمام الہ دین کے پریمئیر شو سے چند ماہ قبل مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے ایک فنکار نے ایک تھیٹر بلاگ میں اس حوالے سے پہلی مرتبہ شکایت کی تھی۔

اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے والے اس فن کار نے لکھا تھا کہ ''جب ڈزنی تھیٹریکل کمپنی نے الہٰ دین کو براڈوے پر پیش کرنے کا اعلان کیا تھا تو مجھے بہت خوشی ہوئی تھی کہ چلیں اس میں مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے فن کاروں کو مختلف کردار ادا کرنے اور فن کے جوہر دکھانے کا موقع ملے گا لیکن بعد میں الہٰ دین کی کاسٹ میں جن چونتیس فن کاروں کو شامل کیا گیا،ان میں ایک بھی مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والا نہیں تھا''۔

اس شکایت کے ردعمل میں ڈزنی کے ایک نمائندے نے ہفنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ کاسٹ کے نسلی پس منظر کو ہم کبھی ظاہر نہیں کرتے کیونکہ یہ کمپنی کے اصولوں کے منافی ہے اور نہ اس کے ملازمین سے دوران ملازمت نسلی پس منظر کے بارے میں پوچھا جاتا ہے۔ہم آڈیشن کے لیے بلاامتیاز فن کاروں کو بلاتے ہیں اور پھر ان سے زیادہ باصلاحیت فن کاروں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

لیکن ڈزنی کی اس پالیسی اور دعوے کے برعکس امریکا میں قائم امریکی عرب انسداد امتیاز کمیٹی کو فن کاروں کی جانب سے آڈیشن کے آغاز کے وقت سے ہی ان سے نسلی امتیاز برتے جانے کی شکایات موصول ہوئی تھی لیکن ان شکایات کے باوجود عرب فن کاروں کو اس تھیٹر شو میں جگہ نہیں دی گئی۔کمیٹی صدر ثمر خلاف کے بہ قول ہالی وڈ کی فلموں یا امریکی ڈراموں میں عربوں یا عرب نژاد فن کاروں کے ساتھ نسلی امتیاز برتنے کی شکایات عام ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں