.

سعودی اسکولوں میں معذور بچوں کو ہراساں کرنے کے واقعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیج میں ڈس ایبلٹی سوسائٹی کے چئیرمین مسعد الاولیٰ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے عمومی تعلیم کے اسکولوں میں ڈاؤن سینڈروم(جینیاتی عارضے سے لاحق کوئی معذوری) کے حامل طلبہ کو جنسی طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔

سعودی روزنامے 'مکہ' میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق وزارت تعلیم کے ڈائریکٹر خصوصی تعلیم عبداللہ العقیل نے بتایا ہے کہ ''طالبات کے اسکولوں میں بھی جینیاتی عارضے میں مبتلا بچیوں کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے لیکن ایسے اکا دکا واقعات ہی رپورٹ ہوئے ہیں''۔

مسعد الاولیٰ کا کہنا ہے کہ بہت سے خاندانوں نے محض اس وجہ سے اپنے بچوں کو اسکولوں سے اٹھوا لیا ہے کہ انھیں وہاں جنسی طور پر ہراساں کیا جارہا تھا۔انھوں نے خصوصی تعلیم کے اسکولوں کو معذور طلبہ کا مناسب تحفظ نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

انھوں نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ ''اساتذہ اسکولوں میں تفریحی وقفے کے دوران تمام بچوں کو آپس میں گھلنے ملنے اور کھیلنے کا موقع دے دیتے ہیں اور معذور بچے بھی عام بچوں کے ساتھ کھیلتے ہیں۔اس دوران نارمل بچے انھیں جنسی طور پر ہراساں کرتے ہیں''۔

تاہم عبداللہ العقیل کا کہنا ہے کہ طلبہ اور طالبات دونوں کے اسکولوں میں ہراساں کرنے کے کیس سامنے آئے ہیں۔انھوں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ صرف معذور بچوں ہی کو ہراساں کیا جاتا ہے بلکہ دوسرے بچوں کے ساتھ بھی ایسا ناروا سلوک ہونے کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ''یہ انفرادی اور الگ تھلگ کیس ہیں اور ابھی یہ اس سطح پر نہیں پہنچے کہ انھیں ایک مظہریت قراردیا جاسکے۔سعودی عرب میں اگر اس طرح کی بے راہ روی کو راہ نہیں مل سکی تو اس کا بڑا سبب معاشرے میں موجود مذہبی تعلیمات اور اقدار ہیں''۔

ایسے کیسوں کے اعدادوشمار کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ ہر تین یا چار سال کے بعد سعودی مملکت کے کسی ایک علاقے میں کوئی ایک کیس رونما ہوتا ہے۔زیادہ تر کیس طلبہ کے آپس کے درمیان ہی ہوتے ہیں اور وہی ایک دوسرے کو ہراساں کرتے ہیں لیکن اساتذہ شاذ و نادر ہی ایسی کسی بے راہ روی میں ملوث پائے گئے ہیں۔