.

حمید ابو طالبی کی یو این میں ایرانی سفیر نامزد کرنے پر امریکا سیخ پا

ابو طالبی پر 1979ء میں امریکی سفارت خانے پر حملے کا الزام ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر کی تبدیلی اور حمید ابو طالبی کی بہ طور سفیر تعیناتی کا ایرانی فیصلہ مسترد کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن اقوام متحدہ میں حمید ابو طالبی کو ایران کے سفیر کے طور پر کسی صورت میں قبول نہیں کرے گا۔ ایران اس تجویز پر عمل درآمد سے باز رہے۔

خیال رہے کہ ایرانی حکومت نے حال ہی میں محمد خزاعی کو ہٹا کر ان کی جگہ معروف سفارت کار حمید ابو طالبی کو نیا سفیر تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا۔

تہران حکومت کے اس اعلان کے فوری بعد امریکی حکومت نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ابو طالبی کی بہ طور سفیر نامزدگی مسترد کر دی تھی۔ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ ابو طالبی سنہ 1979ء میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر یلغار کرنے اور سفارتی عملے کو یرغمال بنانے والے لوگوں میں شامل تھے۔ اس لیے ان کا عالمی ادارے میں سفارتی کرادر قابل قبول نہیں ہو گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پیر کے روز امریکی سینٹ نے ایک مسودہ قانون کی منظوری دی تھی جس میں امریکی حکومت کو حمید ابو طالبی کی اقوام متحدہ میںبہ طور سفیر تقرری روکنے کا حق دیا تھا۔

سینیٹر ٹیکساس ٹیڈ کروز کی جانب سے پیش کردہ مسودہ قانون میں قرار دیا گیا ہے کہ "دہشت گردی میں" میں شہرت رکھنے والے عناصر کو سفارت کاری کی آڑ میں امریکا میں داخل ہونے روکا جائے۔

خیال رہے کہ امریکا میں یہ تاثر عام ہے کہ ایران میں سنہ 1979ء میں برپا ہونے والے ولایت فقیہ کے اسلامی انقلاب کے وقت مشتعل افراد نے تہران میں امریکی سفارت خانے کا گھیراؤ کر لیا تھا اور سفارتی عملے کو 444 دن تک یرغمال رکھا گیا۔ انہیں سنہ 1981ء میں رہائی ملی تھی۔ امریکی سفارت کاروں کو یرغمال بنانے والوں میں حمید ابو طالبی بھی ملوث تھے، جسے حال ہی میں صدر حسن روحانی نے اقوام متحدہ میں تہران کا سفیر لگانے کا اعلان کیا ہے۔