.

''پراگ میں فلسطینی سفیر کی ہلاکت کھلونا بم سے ہوئی تھی''

فلسطینی سفارت خانے سے برآمد ہتھیار سابق چیکو سلواکیہ کی حکومت نے دیے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پراگ میں متعین فلسطینی سفیر جمال الجمال کی پُراسرار موت کے بارے میں پولیس نے اپنی نئی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا ہے کہ وہ قریباً تین عشرے پرانے کھلونا بم کے دھماکے میں مارے گئے تھے اور یہ سیمٹکس پلاسٹک دھماکا خیز مواد ایک کتاب میں چھپایا گیا تھا۔

جمہوریہ چیک کے ایک اخبار ملادا فرونٹادنیس نے ایک ذریعے کے حوالے سے اپنی منگل کی اشاعت میں لکھا ہے کہ ''جمال الجمال کو قتل نہیں کیا گیا تھا بلکہ انھوں نے غیر ارادی طور پر کھلونا نما ایک کتاب کھولی تھی۔ اس میں کئی سال قبل ایک بم چھپا کر رکھا گیا تھا۔ بدقسمتی سے اس سے دھماکا ہو گیا تھا''۔

اخبار نے مزید لکھا ہے:''سفیر بڑے منضبط شخص تھے اور وہ پرانی چیزوں کو ترتیب سے رکھنا چاہتے تھے۔ان میں انھیں دو کتابیں بھی ملی تھیں جن میں دھماکا خیز مواد تھا''۔ تاہم اس ذریعے نے یہ نہیں بتایا کہ کھلونا نما بم والی یہ کتاب فلسطینی سفارت خانے میں کب سے اور کیوں رکھی رہی تھی۔

ماضی میں پولیس اپنے بیانات میں یہ کہہ چکی ہے کہ جمال الجمال ممکنہ طور پر ایک پرانی سیف کی صفائی کے دوران دھماکے میں مارے گئے تھے۔ اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والے افسروں کو فلسطینی سفارت خانے سے سرد جنگ کے زمانے کا گولہ بارود اور آتشیں ہتھیار بھی ملے تھے۔

جمہوریہ چیک کے دارالحکومت پراگ میں متعین فلسطینی سفیر جمال الجمال یکم جنوری کو اپنے اپارٹمنٹ میں دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔ پراگ پولیس کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ دھماکا کسی حملے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ خطرناک مواد کے ساتھ بے احتیاطی سے چھیڑ چھاڑ کے نتیجے میں دھماکا ہو گیا تھا۔

پولیس رپورٹ کے مطابق سفیر جمال ایک پرانی سیف کو کھول رہے تھے اور اس دوران دھماکا ہو گیا تھا۔ یہ سیف فلسطینی سفارت خانے کی سابقہ عمارت سے اس نئی جگہ پر منتقل کی گئی تھی۔ فلسطینی وزارت خارجہ نے واقعہ کے بعد ایک بیان میں کہا تھا کہ ''سیف کو کھولنے کے چند منٹ کے بعد دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں فلسطینی سفیر شدید زخمی ہو گئے تھے۔ انھیں فوری طور پر پراگ کے فوجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے تھے''۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ انھیں پولیس کے ہاتھ لگنے والا آتشیں اسلحہ تیس سال قبل کمیونسٹ چیکو سلواکیہ کے دور میں حکام کی جانب سے تحفے میں دیا گیا تھا۔ اس وقت پراگ کے تنظیم آزادیٔ فلسطین (پی ایل او) کے ساتھ اچھے تعلقات استوار تھے۔ تب چیکو سلواکیہ پی ایل او کے سربراہ یاسر عرفات کی میزبانی کرتا رہا تھا اور اس نے فلسطینی مزاحمت کاروں کو تربیت بھی دی تھی۔

چیک پولیس کی ترجمان نے منگل کو مذکورہ نئی رپورٹ پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے جبکہ پولیس ذریعے نے اخبار کو بتایا ہے کہ ''ہم ایک اور ماہرانہ رائے کے منتظر ہیں لیکن99.9 فی صد امکان یہ ہے کہ یہ سیمٹیکس تھا اور یہ دھماکا خیز مواد کوئی تیس سال پرانا اور 1970ء کے عشرے کے زمانے کا تھا''۔

واضح رہے کہ 1988ء میں اسکاٹ لینڈ کے قصبے لاکربی کے اوپر پان ایم کی پرواز 103 کو تباہ کرنے کے لیے بھی سیمٹیکس بم ہی کو استعمال کیا گیا تھا۔ چیک کمپنی ''ایکسپلوزیا''1960ء کے عشرے سے یہ دھماکا خیز مواد (بم) تیار کر رہی ہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں کمیونسٹ روس کے اس اتحادی ملک سے دھماکا خیز مواد کی بڑی مقدار بیرون ملک بھیجی گئی تھی۔