پاکستانی بس ڈرائیور کا بیٹا برطانوی وزیرِ ثقافت مقرر

ساجد جاوید اپنی محنت کے بل بوتے پر لکھ پتی بنے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان سے نقل مکانی کرنے والے ایک بس ڈرائیور کا بیٹے کو برطانیہ میں وزیرِ ثقافت بنا دیا گیا ہے۔ وہ ماریا میلر کی جگہ لیں گے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ برطانیہ میں ایک ایشیائی مرد کنزر ویٹو رکن کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔ نئے عہدے میں ان کے فرائض نشریات، کھیل، میڈیا، سیاحت، ٹیلی کام، مساوات اور فن شامل ہیں۔

ساجد جاوید سنہ 2010 میں برومزگروو سے رکنِ پارلیمان بنے تھے۔ اس موقعے پر انہوں نے کہا وہ اس کامیابی کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔ وہ اپنی محنت کے بل بوتے پر لکھ پتی بنے ہیں اور وہ مارگریٹ تھیچر کے پرستار ہیں۔ انہیں کنزر ویٹیوز میں تیزی سے ابھرنے والے ناموں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ساجد جاوید کے والد سنہ 1961 میں برطانیہ گئے تھے اور اس وقت ان کی جیب میں صرف ایک پاؤنڈ تھا۔ انہوں نے روچڈیل میں رہائش اختیار کی۔ ساجد جاوید سنہ 1969 میں پیدا ہوئے اور ان کے چار بھائی ہیں۔ انہوں نے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کی اور یونیورسٹی میں معاشیات اور سیاسیات کے مضامین پڑھے۔

ساجد جاوید کے اپنے چار بچے ہیں اور وہ بتاتے ہیں کہ ان کے والد لیبر پارٹی کے حامی تھے۔ تاہم سنہ کے 1978 بعد وہ مارگریٹ تھیچر کے مداح ہو گئے۔ اسی طرح کنزر ویٹو رہنماؤں کے دور میں ملک کے بدلتے مستقبل سے متاثر ہو کر ساجد جاوید نے بھی سنہ 1988 میں پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔

شہر میں آنے کے بعد کی 24 برس عمر میں وہ چیز مینہیٹم بینک کے کم عمر ترین نائب صدر بنے۔ انہوں نے سنہ 2009 میں سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا۔ ساجد جاوید ایک سابق بینکار ہیں اور انہیں گذشتہ برس وزیرِ خزانہ تعینات کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں