مصر:خواتین کو ہراساں کرنے کے انسداد کے لیے قانون سازی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مصر کے قانون سازوں نے خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور ان پر مجرمانہ حملوں کی روک تھام کے لیے نئے قانون کا مسودہ تیار کر لیا ہے جس میں پہلی مرتبہ ہراسیت کی تعریف کی گئی ہے اور اس جرم کے مرتکبین کے لیے سزا مقرر کی گئی ہے۔

مصر میں اس وقت جنسی ہراسیت کے انسداد سے متعلق کوئی قانون نافذ نہیں ہے اور بالعموم تعزیراتِ مصر کی تین دفعات کے تحت عورتوں پر حملوں کے کیس دائر اور فیصل کیے جاتے ہیں۔

مجوزہ قانون میں ہراسیت کی تعریف کی گئی ہے اور جرم کے مرتکبین کے لیے سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔اس مجوزہ قانون کو منظوری کے لیے کابینہ کو بھیج دیا گیا ہے۔مصری وزیرانصاف کے معاون احمد السرغنی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ اس مسودے پر کابینہ نظرثانی کرے گی اور اس کے بعد اس کو منظوری کے لیے جلد صدر کے پاس بھیج دیا جائے گا۔

اہرام آن لائن کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ قانون میں ہراساں کرنے والے کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ ''عوامی یا نجی جگہ پر دوسروں کا پیچھا کرنے والا،جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے فحش یا جنسی اشارے کنائے کرنے یا الفاظ استعمال کرنے والا ہراسیت کا مرتکب قرار پائے گا اور اس کو جیل ،جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی''۔

مجوزہ قانون کے تحت دوسروں کو ہراساں کرنے والے شخص کو ایک سے دس سال تک قید اور 1433 ڈالرز سے 2866 ڈالرز تک جرمانے کی سزا دی جاسکے گی۔ خواتین کو ان کے کام کی جگہوں یا اسکولوں میں ہراساں کرنے والوں کو تین سے پانچ سال تک قید کی سزا دی جائے گی اور ہجوم کی شکل میں چھیڑخوانی کرنے اور ہراساں کرنے والوں پانچ سال تک قید کی سزا دی جاسکے گی۔

مسودے میں اجتماعی یا ازدحامی (ہجوم کی شکل میں) جنسی ہراسیت کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ ''ایسا فعل جس میں دو یا زیادہ افراد ایک عورت پر حملہ آور ہوں۔ایسا شخص جو ہتھیار بند ہوکر کسی عورت پر مجرمانہ حملہ کرے گا،اس کو پانچ سال تک قید کی سزا دی جاسکے گی''۔

واضح رہے کہ مصری خواتین ایک عرصے سے انفرادی اور ازدحامی ہراسیت کا شکار ہیں۔مارچ میں جامعہ قاہرہ میں ایک طالبہ کو ہراساں کرنے کا ایک ایسا ہی کیس سوشل میڈیا کے ذریعے منظرعام پر آیا تھا اور سیاہ چست پینٹ اور لمبی آستین والی اعنابی قمیص میں ملبوس طالبہ کو بعض طلبہ نے ہراساں کیا تھا۔اس واقعہ کے بعد مصر کی عبوری حکومت نے ایسے مجرموں کو سزا دینے کے لیے قانون سازی پر غور شروع کردیا تھا۔

انسانی حقوق کے کارکنان نے انسداد ہراسیت کے لیے عوامی رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔مذکورہ واقعہ کے بعد جامعہ قاہرہ کے صدر جابر نصر نے اس طالبہ کے نامناسب لباس پر تنقید کی تھی۔مصر کے ایک معروف ٹی وی پیش کار تامیر امین نے اپنے شو میں اس سے بھی دو قدم آگے یہ کہہ دیا تھا کہا کہ اس طالبہ نے کسی بیلی ڈانسر کی طرح کا لباس زیب تن کررکھا تھا۔

لیکن سوشل میڈیا پر اس واقعہ پر تندوتیز بحث کے بعد ان دونوں نے طالبہ کے بھڑکیلے لباس پر اپنے تبصرے پر معذرت کی تھی لیکن امین کا کہنا تھا کہ خواتین کو مناسب لباس پہن کر گھروں سے باہر نکلنا چاہیے۔

یادرہے کہ سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف 2011ء کے اوائل میں عوامی احتجاجی تحریک کے بعد مظاہروں کے دوران خواتین کو ہراساں کرنے کے متعدد واقعات رونما ہوئے تھے اور بعض مبلغین نے مردوں کے ساتھ جلسے جلوسوں میں خواتین کی شرکت کی مخالفت کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں