مصر:مساجد پر سرکاری کنٹرول کے لیے مہم میں تیزی

حکومت کے حامی 17 ہزار علماء کو تربیت کے بعد لائسنس جاری کردیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصری حکومت نے اخوان المسلمون کے مساجد پر اثرونفوذ کو کم کرنے کے لیے مہم تیز کردی ہے اور جمعہ کے خطبات کے لیے سترہ ہزار علماء کو لائسنس جاری کردیے ہیں۔

مصر کی مسلح افواج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت گذشتہ سال جولائی میں منتخب جمہوری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے مساجد کو اپنے سخت کنٹرول کے تحت لانے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔اس مہم کا مقصد اخوان المسلمون کے عبادت گاہوں پر اثرورسوخ کو ختم کرنا ہے۔

وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مساجد میں تعیناتی کے لیے نئے منظورشدہ علماء کو تاریخی جامعہ الازہر اور وزارت مذہبی اوقاف کے زیرانتظام اداروں میں تربیت دی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ''اس اقدام کا مقصد مصر کی تمام مساجد پر وزارت کی نگرانی کو مضبوط بنانا ہے تاکہ وہ انتہا پسندوں اور نااہل افراد کے ہاتھ نہ لگ سکیں اور مساجد کو جماعتی یا فرقہ وارانہ مقاصد کے لیے بھی استعمال نہ کیا جاسکے''۔

گذشتہ سال ستمبر میں مصر کے مذہبی اوقاف کے وزیر نے کہا تھا کہ لائسنس نہ رکھنے والے علماء کو مساجد میں تقریریں کرنے اور خطبے دینے سے روک دیا جائے گا۔

سرکاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وزارت مذہبی اوقاف نے تربیت یافتہ مبلغین کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ حکومت نے قریباً بارہ ہزار مبلغین کی منظوری نہیں دی تھی جس کے بعد انھیں خدمات انجام دینے سے روک دیا گیا ہے۔گذشتہ سال ستمبر میں وزیر برائے مذہبی اوقاف نے کہا تھا کہ '' وہ بغیر لائسنس والے پچپن ہزارعلماء کو ہٹانا چاہتے ہیں''۔

واضح رہے کہ اخوان المسلمون صرف ایک سال قبل تک مصر کی سب سے منظم سیاسی ودینی جماعت تھی لیکن فوج کی نگرانی میں قائم موجودہ حکومت نے اس کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کیا ہے جس کے نتیجے میں یہ منظم جماعت بکھر کر رہ گئی ہے۔اس کی پوری قیادت پابند سلاسل ہے اور اس کو ایک دہشت گرد تنظیم قراردیا جاچکا ہے۔

لیکن اخوان المسلمون نے ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں رونما ہونے والے تشدد کے واقعات اور بم دھماکوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ان حملوں میں زیادہ تر سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں