.

دنیا کی بڑی جمہوریت فیس بُک پر قدغنوں میں سب سے آگے

بھارت نے چھے ماہ میں 4745 اور ترکی نے 2014 مرتبہ مواد ہٹانے کی درخواست کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا میں جمہوریت کی حمایت میں گن تو بہت گائے جاتے ہیں لیکن جمہوریت کی بنیادی اقدار آزادیِ اظہار،شفافیت اور بلاتفریق انصاف پر کم ہی عمل کیا جاتا ہے اور اس معاملے میں خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے بلکہ ہونے کا دعوے دار ملک بھارت سب سے آگے ہے جہاں سماجی روابط ویب سائٹ فیس بُک کو مختلف قدغنوں کا سامنا کرنا پڑا ہے یا اس سے مقامی قوانین کو جواز بنا کر مذہب یا حکومت یا ریاست مخالف مواد ہٹانے کے لیے کہا گیا ہے۔

فیس بُک نے جمعہ کو جولائی سے دسمبر 2013ء کے چھے ماہ کے عرصے سے متعلق اپنی ''عالمی حکومت شفافیت'' رپورٹ جاری کی ہے۔اس میں پہلی مرتبہ انکشاف کیا گیا ہے کہ کیسے مختلف ممالک نے فیس بُک پر پوسٹ کیے گئے مواد کو مقامی قوانین کی خلاف ورزی کے عنوان سے ہٹایا یا محدود کیا ہے۔

ویب سائٹ نے اس معاملے میں بھارت کو پہلے نمبر پر قراردیا ہے جس نے چھے ماہ کے دوران 4765 مرتبہ سائٹ پر پوسٹ کیے گئے مواد پر پابندی لگانے یا ہٹانے کے لیے کہا۔ایسے زیادہ تر مواد کا تعلق مذہب یا ریاست پر تنقید کی ممانعت سے تھا۔بھارت فیس بُک کی ایک بڑی مارکیٹ ہے اور اس کے ماہانہ فعال صارفین کی تعداد دس کروڑ ہے۔

ترکی فیس بُک کے حکومتوں کی شفافیت کے وضع کردہ معیار پر پورا نہ اترنے والا دوسرا بڑا ملک ہے اور اس کی جانب سے 2014 مرتبہ پوسٹ کیے گئے مواد کو ہٹانے کے لیے کہا گیا۔ان دونوں ممالک کے علاوہ کسی تیسرے ملک میں فیس بُک کو اس طرح کی سنسر شپ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان فیس بُک پر مواد کو ہٹانے یا محدود کرنے کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر رہا ہے لیکن اس ملک کی جانب سے صرف 162 مرتبہ مواد کو ہٹانے یا قدغنیں لگانے کے لیے کہا گیا۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہونے والے فرانس اور جرمنی نے اسی اسی مرتبہ مواد پر تحدیدات لگانے کی درخواست کی۔فیس بُک نے جمعہ کو ایک بلاگ میں اس نئی ششماہی رپورٹ کا اجراء کیا ہے اور اس کے ساتھ کہا ہے کہ ''ہم درخواست گزار ملک میں صرف مواد تک رسائی کو محدود کرتے ہیں۔ہم اپنی سروس سے مواد کو مکمل طور نہیں ہٹاتے ہیں۔الاّ یہ کہ ہم اس بات کا تعین نہ کرلیں کہ وہ ہمارے کمیونٹی معیار کی خلاف ورزی پر مبنی ہے''۔

مختلف حکومتوں کی جانب سے فیس بُک سے اس کے فعال صارفین کے بارے میں ڈیٹا فراہم کرنے کے لیے بھی درخواستیں کی جاتی رہی ہیں اور اس معاملے میں جمہوری آزادیوں کا سب سے بڑا علمبردار ملک امریکا سب سے آگے رہا ہے۔اس کی جانب سے مذکورہ چھے ماہ کے عرصہ میں ویب سائٹ سے 18715 صارفین کے بارے میں جاننے کے لیے 12598 درخواستیں بھیجی گئیں۔

ماضی میں فیس بُک کی جانب سے ایسی درخواست پر عمل درآمد کیا جاتا رہا ہے اور اس نے 81.02 کیسوں میں بعض ڈیٹا فراہم کیا ہے۔اس عرصے میں کمپنی کو امریکا کی نیشنل سکیورٹی کی جانب سے 999 خطوط موصول ہوئے تھے۔

بھارت فیس بُک کے صارفین کی سراغرسانی اور ان کے بارے میں جاننے کے لیے درخواستیں کرنے میں دوسرے نمبر پر رہا ہے۔اس کی جانب سے 4711 صارفین کے بارے میں 3598 درخواستیں بھیجی گئیں لیکن اس کو ان درخواستوں پر صرف 53.56 فی صد ڈیٹا فراہم کیا گیا۔

فیس بُک کا کہنا ہے کہ صارفین کے ڈیٹا سے متعلق مبہم یا قانونی معیار پر پورا نہ اترنے والی درخواستوں کو مسترد کردیا جاتا ہے۔اگر کمپنی کسی درخواست پر عمل درآمد کرتی ہے تو صارفین سے متعلق بنیادی معلومات اور آئی پی ایڈریس وغیرہ ہی فراہم کیا جاتا ہے۔

لیکن سماجی روابط کا یہ سب سے بڑا نیٹ ورک امریکا کی سراغرسانی کے مقاصد کے لیے نگرانی کی کوششوں سے خوش نہیں ہے۔اس کا کہنا ہے کہ ''حال ہی میں امریکی حکومت کی جانب سے دوسرے ممالک میں نگرانی کے لیے کی جانے والی کوششوں سے متعلق خبروں سے ایک مرتبہ پھر اس بات کو تقویت ملی ہے کہ دنیا کی تمام حکومتوں کو صارفین کے اکاؤنٹ سے متعلق درخواستیں صرف قانونی طریقے کے مطابق ہی دائر کرنا چاہیے''۔

فیس بُک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ نے مبینہ طور پر امریکا کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے حربوں اور اوباما حکومت کے اس معاملے سے غلط طریقے سے نمٹنے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔فیس بُک کا کہنا ہے کہ وہ عوام کا انٹرنیٹ پر اعتماد بحال کرنے اور پرائیویسی کے احترام کو برقراررکھنے کے لیے وکالت جاری رکھے گی۔