.

عدالت میں پیش شخص میرے ابو نہیں: بنت مرسی

"کٹہرے کی فوٹیج میں میرے والد سے مشابہہ شخص دکھایا جا رہا ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی صاحبزادی الشیماء مرسی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر اپنے والد کی عدالت میں پیشی پر مبنی ایک ویڈیو فوٹیج میں دکھائے گئے شخص کے بارے میں کہا ہے کہ "وہ میرے والد نہیں ہیں۔ فوٹیج میں ان سے ملتے جلتے کسی اور شخص کو دکھایا گیا ہے۔"

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شیماء مرسی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ "فیس بک" کے اپنے خصوصی صفحے پر دو الگ الگ تصاویر جوڑ کر پوسٹ کیا ہے جن میں ایک تصویر ڈاکٹر محمد مرسی کے دور صدارت کی ہے جبکہ دوسری تصویر سرکاری ٹیلی ویژن پر دکھائی گئی فوٹیج سے لی گئی ہے۔ الشیماء کا کہنا ہے کہ دونوں تصاویر کو غور سے دیکھنے پر پتا چلتا ہے کہ ٹی وی فوٹیج میں جس شخص کو دکھایا گیا ہے وہ میرے والد [سابق صدر ڈاکٹر محمد مرسی] نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ مصر کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل کے خبر ناموں اور ٹاک شو کے "پروموز" میں معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے ٹرائل کی فوٹیج روز مرہ کی بنیاد پر نشر کی جاتی ہے جس میں سابق صدر کو عدالت میں پیشی کے دوران ایک پنجرہ نما کٹہرے میں دکھایا جاتا ہے۔

فیس بک تصویر کے نیچے پوسٹ کردہ بیان میں شیماء مرسی کا کہنا ہے کہ "تصویر میں داہنی طرف تو میرے والد محمد مرسی ہیں جبکہ بائیں طرف کی تصویر کے بارے میں مَیں "یقین" کے ساتھ کہ سکتی ہوں کہ یہ میرے والد کی تصویر نہیں۔ آپ بھی اچھی طرح فرق کو ملاحظہ کریں۔ کیا میں درست کہہ رہی ہوں؟"۔

شیماء کا مزید کہنا ہے کہ بادی النظر میں فوٹیج میں دکھائی دینے والی تصویر صدر مرسی ہی لگ رہی ہے مگر جو لوگ میرے والد کے چہرے اور خدوخال سے بہ خوبی آگاہ ہیں وہ بتا سکتے ہیں کہ عدالت میں پیش کیا گیا شخص میرے والد نہیں کوئی اور ہے۔

واضح رہے کہ معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی اور ان کی جماعت اخوان المسلمون کی مرکزی قیادت جولائی 2013ء کی فوجی بغاوت کے بعد زیرحراست ہے اور مختلف مقدمات کا سامنا کر رہی ہے۔ ان میں مظاہرین کے مبینہ قتل عام، جاسوسی اور جیل توڑنے کے مقدمات سر فہرست ہیں۔