.

ضلع بھکر کے درندہ صفت بھائیوں کی دوبارہ آدم خوری

ایک بھائی گرفتار، دوسرا فرار، کم سے کم 100مُردوں کا گوشت پکا کر کھانے کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے ضلع بھکر میں دونوں مردہ خور بھائی ایک مرتبہ پھر قبروں سے لاشیں نکال کر اور انھیں پکا کر کھاتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔ان میں سے ایک بھائی کو پولیس نے سوموار کو گرفتار کرلیا ہے اور دوسرا فرار ہوگیا ہے۔

ضلع بھکر کے قصبے دریاخان میں تین سال پہلے 2011ء میں قبروں سے مردے نکال کر ان کا گوشت کھانے کے الزام میں ان دونوں بھائیوں محمد فرمان علی اور محمد عارف علی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور عدالت انھیں دو،دوسال قید کی سزا سنائی تھی۔

وہ دو سال کی قید بھگتنے کے بعد 2013ء میں رہا ہوئے تھے۔وہ اپنی رہائی کے بعد ایک مرتبہ پھر انسانی لاشیں قبروں سے نکال کر اور انھیں پکا کر کھانے لگ گئے تھے۔پولیس کو مقامی لوگوں کی اطلاع کے بعد ان کے گھر سے ایک کم سن لڑکے کے اعضاء ملے تھے جس کے بعد پینتیس سالہ عارف کو گرفتار کر لیا گیا لیکن اس کا بھائی تیس سالہ محمد فرمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ عارف نے ابتدائی تفتیش میں ایک مرتبہ پھر انسانی اعضاء کھانے کا اعتراف کیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ماضی میں ان دونوں بھائیوں نے مقامی قبرستان میں ایک سو قبروں کو کھود کر ان میں تازہ دفن کی گئی لاشوں کو نکالا تھا اور ان کا گوشت پکا کر کھا گئے تھے۔

مقامی لوگوں نے ان دونوں بھائیوں کے گھروں سے آج صبح انسانی گوشت کی سڑاہند آنے کے بعد پولیس کو مطلع کیا تھا جس کے بعد پولیس نے چھاپہ مار کارروائی کی اور وہاں سے اسے ایک لڑکے کا سر اور بعض اعضاء ملے ہیں۔

یادرہے کہ پولیس نے 2011ء میں فرمان اور عارف کو انسانی لاشیں پکا کر کھانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔تب 3 اپریل کو مقامی قبرستان میں تازہ دفن کی گئی ایک نوجوان لڑکی کی میت قبر سے غائب پائی گئی تھی جس کے بعد اہل محلہ کی نشان دہی پر پولیس نے ان دونوں بھائیوں کے گھر سے اس کے اعضاء برآمد کیے تھے اور وہ اس کے کچھ حصے پکا کر کھا گئے تھے۔

تب پولیس نے نقض امن عامہ اور انسانی لاش کی بے حرمتی کے جرم میں ان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا اور انھی کے تحت عدالت نے دونوں کو صرف دو، دوسال قید کی سزا سنائی تھی لیکن انھِیں تب کسی ماہر نفسیات کو نہیں دکھایا تھا کہ وہ اس مکروہ فعل میں کیوں ملوث ہوگئے تھے اور مردہ خور کیوں بن گئے تھے۔

تاہم مقامی پولیس نے اپنی تفتیش کے حوالے سے بتایا تھا کہ دونوں بھائی ایک جادو والے کے چکر میں اس مکروہ دھندے میں پھنس گئے تھے۔ اس جادوگر کو مقامی لوگوں نے کچھ سال پہلے ایک قبر سے لاش چراتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا لیکن وہ پولیس کی گرفت میں نہیں آ سکا تھا۔پولیس کی پوچھ تاچھ کے دوران فرمان علی نے تسلیم کیا تھا کہ ''اس نے اپنے پڑوسیوں پر جادو کرنے کے لیے قرآن کی کچھ آیات کو الٹا پڑھا تھا لیکن اس جادو کے کامیابی کے لیے دونوں بھائیوں کو پاکیزگی کے ساتھ رہنا تھا اور آدم ذات کا گوشت کھانا تھا''۔

اس کے بعد ان دونوں بھائیوں کو مردہ آدم ذات کا گوشت کھانے کی ایسی لت پڑی کہ وہ جیل سے رہائی کے بعد دوبارہ اس درندگی کا مظاہرہ کرنے لگ گئے اور انسانی لاشیں قبروں سے نکال کر اور انھیں پکا کر کھانے لگ گئے۔پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے بھکر کے ضلعی پولیس افسر سے ان دونوں آدم خور بھائیوں کے بارے میں تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔