.

گارجین کی حاکم دبئی سے ''غلط دعوے'' پر معذرت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی اخبار گارجین نے دبئی کے حکمران اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ محمد بن راشد المکتوم کے خلاف ایک رپورٹ کی اشاعت پر معافی مانگ لی ہے۔اس رپورٹ میں اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ شیخ محمد بن راشد کے دفتر نے ایک اطالوی فیشن ایجنسی کے ذریعے ایک اشتہار شائع کرایا ہے جس میں یورپ کے دورے کے موقع پر متعدد خواتین معاونین کی بھرتی کے لیے درخواستیں طلب کی گئی تھیں۔

گارجین نے اپنے مضمون میں ترمیم کرتے ہوئے ایک فُٹ نوٹ کا اضافہ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ:''یو اے ای کے نائب صدر،وزیراعظم اور حاکمِ دبئی شیخ محمد کے دفتر نے ہم سے اس بات کی تصدیق کے لیے رابطہ کیا ہے کہ محل یا ان کے دفتر کی جانب سے سفر کے تعلق سے معاونین کی بھرتی کا نہ تو کسی کو مجاز بنایا گیا ہے اور نہ اس کی کوئی درخواست کی گئی ہے۔ہمیں اس کی وضاحت کرتے ہوئے خوشی ہورہی ہے اور ہم اس پر ان سے معذرت خواہ ہیں''۔

مضمون کی ترمیم شدہ شکل میں لکھا گیا ہے کہ ''دبئی کے ایک دولت مند شیخ معاون خواتین کی ایک چھوٹی فوج کی بھرتی کے لیے وینس جارہے ہیں تاکہ وہ اس کی نقدی کو خرچ کرنے میں اس کی معاونت کرسکیں''۔تاہم اس میں شیخ کی شناخت نہیں کی گئی ہے۔

اخبار نے ایک اطالوی فیشن کمپنی اور ایک کاسٹنگ ایجنسی کے مالک کا حوالہ دیا ہے جس کا کہنا تھا کہ اسے دبئی میں قائم ایک ایجنسی سے فون کال موصول ہوئی تھی اور اس میں یورپ میں خریداری کے لیے اطالوی خواتین کی تلاش کے لیے کہا گیا تھا کیونکہ وہ فیشن کے انتخاب میں خوب مہارت رکھتی ہیں۔

گارجین کے مضمون کے مطابق:''یہ خواتین پُرکش ،جاذب نظر اور خوبرو ہونی چاہئیں۔ان کی عمریں اٹھارہ سے اٹھائیس سال کے درمیان ہونی چاہئیں یا وہ اتنی عمر کی نظر آئیں۔وہ انگریزی زبان مہارت سے بولنے کی صلاحیت رکھتی ہوں کیونکہ شیخ کا خاندان اسی غیر ملکی زبان کو بول اور سمجھ سکتا ہے۔اگر درخواست گزار فرانسیسی اور عربی زبانیں بھی بول سکتی ہوں تو یہ ان کی اضافی خوبی شمار ہو گی لیکن ان سب سے بڑھ کر انھیں خریداری میں مہارت تامہ ہونی چاہیے''۔

کامیاب درخواست گزار خواتین شیخ اور ان کے خاندان کے ہمراہ یورپ کے دورے پر جائیں گی اور انھیں یومیہ ایک سو یورو ادا کیا جائے گا۔دورے میں وہ مبینہ طور پر اعلیٰ عشائیوں اور تقاریب میں شرکت کریں گی۔انھیں لگژری قیام کی سہولت مہیا کی جائَے گی اور وہ میڈرڈ ،پیرس ،لندن ،اسٹاک ہوم ،ابیزہ ، میلان اور وینس کے درمیان صرف ایک نجی جیٹ طیارے پر ہی سفر کریں گی۔

گارجین کی رپورٹ کے مطابق مورو بلکارو نامی کاسٹ ڈائریکٹر نے ایک سو درخواست گزاروں میں سے ساٹھ کا انتخاب کیا ہے اور ان کی فلم بنائی ہے لیکن ان میں سے بھی صرف ایک یا دو کو معیار کے مطابق پایا گیا ہے۔بلکارو کا کہنا ہے کہ ''یہاں خوبصورتی کو اہمیت حاصل نہیں بلکہ مشاورتی تجربے اور ذہانت کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔مزید برآں خواتین درخواست گزاروں کی ازدواجی حیثیت کو بھی اہمیت حاصل نہیں ہے''۔

مسٹر بلکارو کا کہنا تھا کہ ''ہم کوِئی حرم بنانے نہیں جارہے ہیں۔یہ خاندان کی طرح کی تقاریب ہوں گی اور شیخ کے بہت سے بچے وہاں ہوں گے۔ان خواتین کی یہ ذمے داری ہوگی کہ وہ مناسب لباس پہن کر سماجی تقاریب میں شرکت کریں''۔

تاہم گارجین نے اپنی اس اسٹوری میں یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ اس نے اس کی اشاعت سے قبل ان تمام معلومات کی تصدیق یا تردید کے لیے شیخ کے دفتر سے رابطہ کیوں نہیں کیا تھا؟