.

بھارت میں خواجہ سراؤں کو تیسری جنس کا درجہ مل گیا

فیصلہ بھارتی سپریم کورٹ نے لکشمی تریپاتھی کی درخواست پر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی سپریم کورٹ نے خواجہ سراؤں کو تیسری جنس کا درجہ دینے کا حکم سناتے ہوئے کہنا تھا کہ خواجہ سراؤں کو تیسری جنس کا درجہ معاشرتی یا طبی معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق بنیادی انسانی حقوق سے ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جسٹس کے ایس رادھا کرشن نے اپنے فیصلے میں بھارتی حکومت اور ریاستی اداروں کو حکم دیا کہ خواجہ سراؤں کو غیر جانبدارانہ طور پر تیسری جنس تسلیم کیا جائے اور انھیں بھی دوسرے اقلیتی گروپوں کی طرح فلاحی اسکیموں میں مساوی حقوق فراہم کئے جائیں، خواجہ سرا اس ملک کے شہری ہیں اور تعلیم سمیت تمام حقوق میں برابر کے شریک ہیں۔

بھارت کے مشہور خواجہ سرا لکشمی نارائن تریپاتھی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ روایتی طور پر قدامت پسند ملک میں خواجہ سراؤں کو بہت عرصے تک مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. سپریم کورٹ کے فیصلے سے خواجہ سراؤں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

واضح رہہ کہ لکشمی نارائن تریپاتھی نے ایک گروپ کے ساتھ مل کر 2012 میں خواجہ سراؤں کے حقوق سے متعلق سپریم کورٹ میں کیس دائر کیا تھا۔