بھارت میں خواجہ سراؤں کو تیسری جنس کا درجہ مل گیا

فیصلہ بھارتی سپریم کورٹ نے لکشمی تریپاتھی کی درخواست پر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

بھارتی سپریم کورٹ نے خواجہ سراؤں کو تیسری جنس کا درجہ دینے کا حکم سناتے ہوئے کہنا تھا کہ خواجہ سراؤں کو تیسری جنس کا درجہ معاشرتی یا طبی معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق بنیادی انسانی حقوق سے ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جسٹس کے ایس رادھا کرشن نے اپنے فیصلے میں بھارتی حکومت اور ریاستی اداروں کو حکم دیا کہ خواجہ سراؤں کو غیر جانبدارانہ طور پر تیسری جنس تسلیم کیا جائے اور انھیں بھی دوسرے اقلیتی گروپوں کی طرح فلاحی اسکیموں میں مساوی حقوق فراہم کئے جائیں، خواجہ سرا اس ملک کے شہری ہیں اور تعلیم سمیت تمام حقوق میں برابر کے شریک ہیں۔

بھارت کے مشہور خواجہ سرا لکشمی نارائن تریپاتھی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ روایتی طور پر قدامت پسند ملک میں خواجہ سراؤں کو بہت عرصے تک مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. سپریم کورٹ کے فیصلے سے خواجہ سراؤں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

واضح رہہ کہ لکشمی نارائن تریپاتھی نے ایک گروپ کے ساتھ مل کر 2012 میں خواجہ سراؤں کے حقوق سے متعلق سپریم کورٹ میں کیس دائر کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں