.

مہنگائی: سابق فوجی نے اردنی وزیراعظم پر جوتا اچھال دیا

عبداللہ نصر پر مہنگائی اور بے روزگاری پرقابو پانے میں ناکامی کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن میں حکام نے ایک سابق فوجی کو ایک سرکاری تقریب کے دوران وزیراعظم عبداللہ نصر پر جوتا اچھالنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

اردنی حکام کے مطابق وزیراعظم پر شمالی شہر جراش میں سوموار کو ایک تقریب کے دوران جوتا اچھالا گیا تھا۔ وہ اس وقت ملکی معیشت کے بارے میں گفتگو کررہے تھے۔اس دوران 65 سالہ سابق فوجی مفلح محسنہ اپنی نشست سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور وزیراعظم کو مخاطب کرکے کہنے لگے:''آپ نے قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے''۔

اس پر شہر کے مئیر نے محسنہ کو ٹوکا اور کہا کہ وہ بولیں نہیں کیونکہ ان کی گفتگو کی باری نہیں آئی ہے لیکن وہ اس پر غصے میں آگئے اور اپنے جوتے اتار کر اسٹیج کی جانب اچھال دیے جہاں وزیراعظم اور پانچ وزراء بیٹھے ہوئے تھے۔

پولیس نے اس کے بعد محسنہ کو وزیراعظم اور کابینہ کے وزراء پر جوتا اچھالنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ایک بلدیاتی عہدے دار کے مطابق ''اس کو اس کے اپنے تحفظ کے پیش نظر گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ بعض حاضرین نے اس کے خلاف کارروائی کی دھمکی دی تھی''۔

مفلح محسنہ سابق فوجی ہیں اور جراش سوسائٹی کے سربراہ بھی ہیں۔مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق موقع پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے صحافیوں سے واقعہ کی فوٹیج لے لی تھی تاکہ اس کی میڈیا پر تشہیر کو روکا جا سکے۔

واضح رہے کہ نصر حکومت نے نومبر 2012ء میں ساڑھے تین ارب ریال بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے گھریلو گیس سمیت ایندھن کی قیمتوں میں 52 فی صد تک اضافہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہوگیا تھا۔حکومت کے اس اقدام کے خلاف اردن کے بڑے شہروں اور قصبوں میں احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔

اردنی شہری بے روزگاری اور غربت کی شرح میں اضافے کے خلاف بھی احتجاج کررہے ہیں اور وہ مملکت میں سیاسی و اقتصادی اصلاحات اور کرپشن کے خاتمے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کررہے ہیں۔