.

سابق مصری جنرل کا تاریخی مسیحی خانقاہ کو ڈھانے کا مطالبہ

خانقاہ میں موجود یونانی راہب مصر کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری فوج کے ایک سابق جنرل نے ملک کی سلامتی کو درپیش خطرے کے پیش نظر اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے یونیسکو کی جانب سے عالمی ثقافتی ورثہ قراردی گئی سینٹ کیتھرین کی خانقاہ کو ڈھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

سابق جنرل احمد راجعی عطیہ عیسائیوں کی اس عمارت کو مسمار کرنے کے لیے محض زبانی کلامی مطالبے تک ہی محدود نہیں رہے بلکہ انھوں نے اس ضمن میں ایک قانونی درخواست بھی عدالت میں دائر کی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ جزیرہ نما سیناء کے جنوب میں واقع خانقاہ کی عمارت ہرگز بھی تاریخی اہمیت کی حامل نہیں ہے بلکہ اس کو 2006ء میں تعمیر کیا گیا تھا اور یہ علاقہ ''غیر ملکیوں'' کے لیے جنت بن چکا ہے۔

انھوں نے سینٹ کیتھرین کی خانقاہ میں موجود یونانی راہبوں کو واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ مصر کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔

اس خانقاہ کے وکیل ایہاب رمزی کا کہنا ہے کہ مئی 2012ء میں جنرل عطیہ نے اس تاریخی جگہ پر موجود مختلف گرجا گھروں ،راہبوں کے رہنے کے کوارٹروں ،باغیچوں اور دوسری جگہوں کو مسمار کرنے کے لیے اکہتر انتظامی احکامات حاصل کیے تھے۔

واضح رہے کہ احمد راجعی عطیہ نے 1978ء میں مصری فوج کے خصوصی آپریشنز یونٹ کو تشکیل دیا تھا۔انھوں نے جمعرات کو ایک نجی ٹی وی چینل آن ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ انھوں نے خانقاہ کی مسماری کے لیے ازسرنو اپنی کوششیں شروع کردی ہیں۔

انھوں نے شمال مشرقی شہر اسماعیلیہ کی ایک انتظامی عدالت میں سابقہ اکہتر احکامات کی بنیاد پر نیا کیس دائر کیا ہے اور اس میں خانقاہ کے ذمے داروں کے علاوہ مصری صدر ،سیاحت اور نوادرات کے وزراء سمیت دس عہدے داروں کو فریق بنایا ہے۔انھوں نے الزام عاید کیا ہے کہ راہبوں نے قریبی علاقے کے تاریخی نام کو تبدیل کردیا ہے اور موسیٰ کے کنویں کے نام سے زیر زمین پانی کے ایک چشمے (منبع) کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔

انھوں نے خانقاہ کی عمارت پر یونانی پرچم لہرانے اور مصری سرزمین پر غیرملکیوں کے قبضے پر احتجاج کیا ہے اور اس کو ملک کی قومی سلامتی اور علاقائی خودمختاری کے منافی قرار دیا ہے۔اب انھوں نے اپنے ان الزامات کے حق میں عدالت میں ثبوت پیش کرنا ہیں لیکن اس سے قبل عدالت نے اس کیس کو ماہرین کے ایک پینل کو بھیجا ہے تا کہ وہ یہ فیصلہ کرکے بتائیں کہ آیا یہ خانقاہ تاریخی اہمیت کی حامل ہے یا نہیں اور کیا موسیٰ کا کنواں اس عمارت کی تہ ہی میں واقع ہے۔اس پینل کی تحقیقی رپورٹ آنے تک عدالت نے کیس کی مزید سماعت جون 2014ء تک ملتوی کردی ہے۔

دوسری جانب خانقاہ کے وکیل ایہاب رمزی نے اہرام آن لائن کے ساتھ ایک انٹرویو میں جنرل عطیہ کے ان دعووں کو مسترد کردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ مصری حکام ایک عرصے سے اس خانقاہ کے ساتھ ایک تاریخی عمارت ایسا معاملہ کرتے چلے آرہے ہیں۔انھوں نے جگہ پر موجود لوگوًں کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ محافظ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مسیحی خانقاہوں میں یہ سب سے قدیم اور مسلسل آباد جگہ ہے اور اس کی تاریخ گذشتہ سترہ صدیوں میں تلاش کی جاسکتی ہے اور یہ مصر کی وزارتِ نوادرات اور یونیسکو کے زیر اہتمام ہے۔یہی وجہ ہے 2012ء میں جنوبی سیناء کے محکمہ نوادرات نے خانقاہ کے خلاف دائر کیے گئے دعووں کو مسترد کردیا تھا۔