.

ایرانی ماں نے بیٹے کے قاتل کو تھپڑ رسید کرکے معاف کردیا

نوجوان قاتل کو تختہ دار پر لٹکنے سے چند لمحے قبل نئی زندگی مل گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک ایرانی خاتون نے اپنے بیٹے کے قاتل کو محض ایک تھپڑ رسید کرکے معاف کردیا ہے۔اس قاتل کو عدالت نے سزائے موت سنائی تھی اور وہ تختہ دار پر لٹکنے ہی والا تھا۔

بلال نامی اس نوجوان قاتل نے 2007ء میں گلی میں جھگڑے کے دوران اس خاتون کے بیٹے اور اپنے ہم عمر عبداللہ حسین زادے کو چاقو کے پے درپے وار کرکے قتل کردیا تھا۔اس وقت اس قاتل کی عمر انیس سال تھی۔اس کی نوجوانی کے پیش نظر اس کو مقتول کی والدہ سے معافی دلانے کے لیے سرکردہ ایرانی شخصیات نے مہم چلائی تھی۔

ایرانی روزنامے شہ رگ میں جمعرات کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق شمالی شہر نوشہر میں پولیس اہلکار منگل کی صبح مجرم بلال کو پھانسی پر لٹکانے کے لیے مقرر جگہ پر لے گئے تھے اور اس وقت وہاں لوگوں کا جم غفیر جمع تھا۔

قاتل کے سر پر پھانسی سے قبل سیاہ نقاب اوڑھا دیا گیا تھا اور وہ ایک کرسی پر کھڑا تھا اور اس کی گردن پر پھندا کسا جانے والا تھا لیکن عین اس وقت مقتول کی والدہ ثمرہ علی نجاد آگے بڑھیں اور انھوں نے مجمع کو مخاطب ہوکر کہا:''کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک خالی گھر میں زندگی گزارنا کتنا مشکل ہوتا ہے''۔واضح رہے کہ ان کا ایک اور بیٹا چار سال قبل موٹرسائیکل کے ایک حادثے میں مارا گیا تھا۔

اس مرحلے پر پھانسی گھاٹ پر بڑا جذباتی منظر تھا کیونکہ اگلے چند لمحوں میں قاتل پھانسی پر لٹکنے والا تھا لیکن عین وقت پراس کی موت ٹل گئی اور اس کو نئی زندگی مل گئی۔ہوا یہ کہ مقتول کی والدہ آگے بڑھیں،انھوں نے قاتل کے منہ پر ایک تھپٹر رسید کیا اور اس کی گردن کے گرد کسا ہوا پھندا کھول دیا۔اس عمل میں ان کے خاوند عبدالغنی حسین زادے نے بھی ان کی معاونت کی۔

بعد میں انھوں نے قاتل کو معاف کرنے کے حوالے سے اخبار کو بتایا کہ ''میں ایمان رکھنے والی عورت ہوں۔میں نے ایک خواب دیکھا تھا جس میں میرا بیٹا مجھے کہتا ہے کہ میں امن میں ہوں اور اچھی جگہ پر ہوں''۔اس خواب کے بعد مجھے میرے تمام رشتے داروں حتیٰ کہ والدہ نے بھی کہا کہ قاتل کو معاف کردو''۔

انھوں نے بتایا کہ ''قاتل پھانسی پر چڑھنے سے قبل معافی کے لیے چلاّ رہا تھا۔میں نے اس کے منہ پر تھپڑ رسید کیا اور اس تھپڑ نے مجھے صبر دینے میں مدد کی ہے۔اب میں نے اس کو معاف کردیا ہے اور میں راحت وسکون محسوس کررہی ہوں''۔

قاتل بلال نے معافی ملنے اور پھانسی سے بچنے کے بعد ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ''چانٹا دراصل انتقام اور معافی کے درمیان کا مقام تھا۔میں نے اپنے دوستوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے پاس چاقو نہیں رکھیں۔میری یہ خواہش تھی کہ اگر میں اپنے پاس چاقو رکھتا تو کوئی مجھے منہ پر تھپڑ رسید کردیتا''۔

واضح رہے کہ اس قاتل کو معافی دلانے کے لیے مہم میں معروف شخصیات نے بھی حصہ لیا تھا۔ان میں فٹ بال کے معروف کمنٹیٹر اور ٹی وی شو کے میزبان عادل فردوسی پور اور سابق بین الاقوامی فٹ بالر علی داعی بھی شامل ہیں۔انھوں نے مقتول کے خاندان سے قاتل کو معاف کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔مقتول کے والد خود بھی سابق فٹ بالر رہے ہیں۔اس لیے فٹ بال کے کھیل سے وابستہ شخصیات بطور خاص اس مہم میں پیش پیش رہی تھیں۔

اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق 2014ء کے آغاز کے بعد سے اب تک ایران میں 170 افراد کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جاچکا ہے۔ایران میں 1979ء کے انقلاب کے بعد نافذ قوانین کے تحت قتل ،زنا اور مسلح ڈکیتی سمیت مختلف جرائم کی سزا موت مقرر ہے۔تاہم مقتول کے لواحقین خون بہا کے بدلے میں قاتل کو معاف کرسکتے ہیں۔