مالکی کے فرزند حمودی عراق کے نئے عُدی ہو گئے؟

پسرِ وزیر اعظم پر کار سرکار میں مداخلت اور کاروباری سودے طے کرانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

عراق کے وزیراعظم نوری المالکی پر ان کے قریبی اتحادی اور مخالف سیاست دان مطلق العنان سربراہ ریاست ہونے کے الزامات تو عاید کرتے رہتے ہیں لیکن اب ان کے فرزند ارجمند احمد نوری المالکی بھی مختلف الزامات کی زد میں آگئے ہیں اور انھیں سابق مصلوب صدر صدام حسین کے بیٹے عُدی حسین کا ہم پلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

2003ء میں امریکی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے عُدی حسین اپنے والد کی حکومت میں لوگوں کو سرعام تشدد کا نشانہ بنانے اور انھیں معمولی معمولی باتوں پر زندگی کی قید سے آزاد کرنے کے لیے مشہور تھے۔ان کے مقابلے میں احمد المالکی کا ایسا کردار تو سامنے نہیں آیا لیکن وہ کاروبار اور مال ودولت پر ہاتھ مارنے میں ان سے کسی بھی طرح کم نہیں ہیں۔

احمد المالکی اس وقت اپنے والد نوری المالکی کے دفتر میں سکیورٹی چیف کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ اطلاعات سامنے آچکی ہیں کہ وہ انتہائی سکیورٹی والی جیل کے ذمے دار ہیں اور انھیں واشنگٹن ڈی سی میں عراقی سفارت خانے میں ''بزنس کنسلٹینٹ''مقرر کرنے کی خبریں بھی سامنے آچکی ہیں۔

احمد المالکی عراقیوں میں حمودی کے عرفی نام سے زیادہ معروف ہیں۔ انھوں نے اپنا بچپن دمشق میں گزارا تھا جہاں ان کے والد جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے کیونکہ صدام حسین نے ان کی اسلامی جماعت دعوہ پر پابندی عاید کر دی تھی۔ احمد کے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ وہ اپنے والد کے دفتر میں سکیورٹی چیف ہونے کے علاوہ بغداد کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے گرین زون کی سکیورٹی کے بھی ذمے دار ہیں۔اس علاقے میں سرکاری دفاتر اور متعدد مغربی سفارت خانے واقع ہیں۔

گرین زون پر کنٹرول کی وجہ سے حمودی نے وہاں گیس کی تقسیم پر بھی مکمل اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ ''گرین زون میں ایک ہی جگہ سے گیس کے کیپسول حاصل کیے جا سکتے ہیں اور وہ ہے سکیورٹی چیف کا دفتر۔ نیز اس علاقے میں داخلے کے لیے اجازت نامے اور سکیورٹی بیجز کا اجراء بھی وہی کرتے ہیں''۔

لیکن مستقبل کے اس ولی عہد کی سرگرمیاں صرف گرین زون تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ وہ تعمیرات، سرمایہ کاری اور سکیورٹی کے علاوہ فوجی معاملات میں بھی مداخلت کررہے ہیں۔یہ کہنا تھا نوری المالکی کے ساتھ آٹھ سال تک کام کرنے والے ایک سابق عہدے دار کا۔ان صاحب کے بہ قول حمودی ایک نئی فورس کی قیادت کررہے ہیں جو براہ راست وزیراعظم کے حکم کے تحت کام کرتی ہے اور اس کا فوج کی کمان یا وزیردفاع سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ایک اور ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس سب کے باوجود احمد نوری المالکی اور عُدی حسین میں ایک بڑا فرق ہے۔ موخر الذکر خود کو میڈیا میں نمایاں رکھتے تھے لیکن احمد المالکی خود کو میڈیا سے دور رکھتے ہیں اور ایسا وہ اپنے سخت گیر والد کی ہدایات کے تحت کررہے ہیں تا کہ ان کی سرگرمیوں کی عوام کو بھنک ہی نہ پڑسکے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی تصاویر یا ویڈیوز عام دستیاب نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ میڈیا پر بھی ان سے رابطہ کرنے پر پابندی ہے۔اس ذریعے کے بہ قول مختلف بین الاقوامی جرائد نے ان کے انَٹرویو کے لیے رابطہ کیا تھا لیکن ان سب کو کورا جواب دے دیا گیا۔میڈیا سے اس خودساختہ دوری کے باوجود انٹرنیٹ کے ذریعے ان کے بارے میں مختلف کہانیاں زیر گردش ہیں اور ان کی مال بٹورنے کی سرگرمیوں اور حکومتی امور میں براہ راست مداخلت کے پیش نظر ہی انھیں صدام حسین کے بیٹے کے ہم پلہ قراردیا گیا ہے۔

حمودی نے مبینہ طور پر اپنے منصب اور روابط کو بروئے کار لاتے ہوئے عراقی میڈیا چینلز میں لاکھوں کروڑوں ڈالرز کے حصص خرید کر رکھے ہیں۔وہ بغداد سے دس کلومیٹر جنوب میں واقع بسمیہ ہاؤسنگ ڈویلپمنٹ اور نجی السمیریا سیٹلائٹ ٹی وی نیٹ ورک کے کاروباری شراکت دار ہیں۔

اسی چینل کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں نوری المالکی نے اپنے بیٹے کا دفاع کیا ہے اور الزام لگانے والوں کو چیلنج کیا ہے کہ وہ احمد کے خلاف ثبوت سامنے لائیں۔ان کا انٹرویور کے سوال پر کہنا تھا کہ احمد کا صرف ایک مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ وہ میرا بیٹا ہے اور اس پر عراق کے کرپٹ بزنس مین اور سیاست دان بدعنوانیوں کے الزامات عاید کررہے ہیں کیونکہ احمد نے ان کا پیچھا کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ جواب میں الٹا اسی کو بدعنوان قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

عراقی وزیر اعظم کے اس دعوے کے باوجود ذرائع کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے کو خاندان کے وقار اور اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اور وہ عراق میں وقت گزارنے کے علاوہ جرمنی اور روس بھی آتے جاتے رہتے ہیں۔

شمالی شہر موصل سے تعلق رکھنے والے ایک اور ذریعے اور سیاسی تجزیہ کار مجید رشید النعیمی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ احمد المالکی وزیراعظم کے دفتر میں اسسٹینٹ سیکریٹری کے طور پر تعینات ہیں۔وزیراعظم نے حمودی کو تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے کی بھی اجازت دے رکھی ہے تا کہ خاندان کے اقتدار سے چمٹے رہنے کے لیے مالی وسائل مہیا ہوسکیں کیونکہ نوری المالکی کو اقتدار پر برقرار رہنے کے لیے رقوم کی ضرورت ہے۔

رشید النعیمی کے بہ قول ''نوری المالکی اب ایران پر مزید انحصار نہیں کرسکتے اور وہ رقوم کے حصول کے لیے اپنے ذرائع پیدا کرنا چاہتے ہیں۔اس مقصد کے لیے احمد ان کے دست راست ہیں اور وہ کوئی بھی غلط کام کرسکتے ہیں مگر وزیراعظم کو اپنے صاحبزادے پر بھروسا بھی ہے''۔ان کا کہنا تھا کہ عراق میں کرپشن ایک انتظامی کاروبار بن چکی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ''احمد المالکی مشرق وسطیٰ میں ایک بڑے مالیاتی ادارے کو کنٹرول کرتے ہیں۔وہ قطر میں بیٹھ کر یورپ اور مشرقی یورپ کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں''۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ احمد المالکی کا عضئی یا صدام حسین کے دوسرے بیٹے قصئی حسین کے ساتھ موازنہ درست نہیں ہوگا کیونکہ وہ تو کھلے عام شاہراہوں پر لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا کرتے تھے۔ان کے مقابلے میں احمد المالکی تو زیادہ مہذب نظر آتے ہیں اور ذاتی طور پر وہ دوستانہ رویے کے حامل ہیں ،جارحیت پسند نہیں ہیں۔

تاہم بعض مبصرین عراقی وزیر اعظم کے بیٹے پر کرپشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔نوری المالکی کے زیرقیادت اسٹیٹ آف لا اتحاد کے ایک عہدے دار عدنان السراج نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ احمد المالکی گرین زون میں واقع سرکاری رئیل اسٹیٹ کے انچارج ہیں۔

ان کے بہ قول:''وہ ایک سادہ شخص کے طور پر مشہور ہیں اور وہ ایک بہت چھوٹے حکومتی عہدے پر فائز ہیں۔بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ سارا کچھ ان کے اختیار میں ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔وہ ہمارے سیاسی اتحاد کے معاملات میں بھی کوئی مداخلت نہیں کرتے ہیں''۔

العربیہ نیوز نے احمد المالکی کا موقف جاننے کے لیے ان کے دستیاب نمبروں پر متعدد مرتبہ رابطہ کیا اور ان کے قریبی حلقے کے لوگوں سے بھی رابطے کی کوشش کی گئی لیکن انھوں نے یا تو ان فون کا لز کو نظر انداز کردیا یا پھر سوالوں کی نوعیت کا پتا چلنے کے بعد ان کا جواب دینا مناسب خیال نہیں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں