.

عراق: خواتین امیدواروں کے پوسٹرز پر نوجوان ووٹرز 'فریفتہ'

غیر اخلاقی حرکات پر امیدواروں سمیت مذہبی حلقوں کا اظہار ناراضی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں دہشت گردی اور افراتفری کے جلو میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ انتخابی گہما گہمی کے دوران پسندیدہ امیدواروں کی تشہیر معمول کی بات ہے مگر عراق میں خواتین امیدواروں کی تشہیر میں اخلاقی حدود کے پامال کیے جانے پر ملک کے مذہبی حلقے اور وزارت برائے امور خواتین نے بھی سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراق کے شدت پسند مذہبی حلقوں میں خواتین کے سیاست میں حصہ لینے کو پہلے ہی معیوب خیال کیا جاتا ہے لیکن دوسری طرف خواتین کے پرستاروں نے بھی ان سے اپنی محبت میں اخلاقی آداب اور قرینے بھلا یے ہیں۔ خواتین امیدواروں کے تصویری پوسٹرز کی سوشل میڈیا پر تشہیر کی جا رہی ہے۔ شاہراوں اور پبلک مقامات پر لگے بل بورڈز پر خواتین امیدواروں کی تصاویر کو نوجوان ووٹرز اظہار پسندیدگی کے لئے سر عام چوما چاٹی سے بھی گریز نہیں کر رہے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ امر ہے کہ منچلے نوجوانوں کے ساتھ سیکیورٹی اہلکار بھی اس "کار خیر" میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔

اخلاق کے منافی حرکات بالخصوص خواتین امیدواروں کی تصاویر کی سرعام بوسہ بازی پر مذہبی حلقوں کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ رد عمل میں وزارت امور نسواں بھی شامل ہو گئی ہے۔

ایک بیان میں وزارت خواتین نے سیکیورٹی اداروں اور سپریم الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خواتین کی تصاویر کی سر عام ہوتی بے حرمتی کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کریں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والی خواتین امیدواروں کی تصاویر کو بوسے دینا عراقی شرفاء کا کام نہیں ہے۔ جو لوگ ایسا کر رہے ہیں وہ عراقی قوم کو دنیا بھر میں بدنام کرنا چاہتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی تبصرے

عراقی وزارت خواتین نے خواتین امیدوارں کی تصاویر کے سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی مقاصد کے لیے استعمال کی بھی نشاندہی کی ہے اور بتایا ہے کہ اخلاق باختہ عناصر نے خواتین کی تصاویر کو سوشل میڈیا بالخصوص ٹیوٹر اور فیس بک پر تشہیر دے کر عراقی سماج کو عالمی سطح پر بدنام کیا ہے۔

سوشل میڈیا کے ذریعے خواتین امیدوارں کی نہ صرف تصاویر کو نامناسب انداز میں پیش کیا جاتا ہے بلکہ ان پر غیر اخلاقی تبصروں سے انہیں مزید بدنام کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر خواتین کی تصاویر پر ہونے والی تبصرہ آرائی عراقی نوجوانوں کی اخلاقی گراوٹ کا مظہر ہے اور متعلقہ حکام کو اس غیر اخلاقی رحجان پرسختی سے پابندی عائد کرنی چاہیے۔

عراقی خاتون امیدوار صباح التمیمی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں پہلے ہی خواتین کے انتخابات اور سیاست میں حصہ لینے کی بڑی مخالفت موجود ہے۔ خواتین کی تصاویر کی چومہ چاٹی یا انہیں سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی طریقے سے تشہیر دینے والے عناصر ان شدت پسند مذہبی عناصر کے نظریات کو تقویت دے رہے ہیں جو خواتین کی سیاست کے قائل نہیں ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں التمیمی کا کہنا تھا کہ خواتین کو بدنام کرنے کی اس غیر اخلاقی مہم میں صرف کم عمر نوجوان ہی نہیں ایسی غیر اخلاقی حرکات کی روک تھام کے ذمہ دار پولیس اہلکار خود بھی ایسی اخلاق باختہ حرکات میں ملوث ہیں۔