.

سعودی عرب اور یواے ای سے محبت ہے:علامہ قرضاوی

ماضی میں جو کچھ کہا، مخلصانہ مشورے کے طور پر اور ذاتی حیثیت میں کہا:بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر میں مقیم مصری نژاد معروف عالم دین علامہ یوسف القرضاوی نے اپنے بیانات اور تقریروں سے خلیجی ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی سفارتی کشیدگی کو دور کرنے کے لیے ایک مصالحتی بیان جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ماضی میں جوکچھ کہا،وہ ذاتی حیثیت میں اور مخلصانہ مشورے کے طور پر کہا ہے۔ان کے بیانات کا قطری حکومت کے سرکاری موقف سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انھوں نے اتوار کو جاری کردہ ایک ای میل بیان میں کہا ہے کہ''میرا ذاتی موقف قطری حکومت کے موقف کی عکاسی نہیں کرتا ہے بلکہ میں جو کچھ کہتا ہوں،وہ میری ذاتی رائے ہے''۔

انھوں نے مزید کہا:''میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے تمام خلیجی ممالک سے محبت ہے اور وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔میں سعودی عرب ،کویت ،متحدہ عرب امارات ،اومان اور بحرین کو ایک ملک اور ایک ہی گھر خیال کرتا ہوں''۔

واضح رہے کہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے 5 مارچ کو قطر میں متعین اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا تھا اور اس پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ ایک دوسرے ملک کے داخلی امور میں مداخلت سے متعلق ریاض معاہدے کی پاسداری میں ناکام رہا ہے لیکن قطر نے اس الزام کو مسترد کردیا تھا۔

خلیجی ممالک کے سفراء کی واپسی کے بعد سے علامہ قرضاوی نے جمعہ کو خطبات نہیں دیے ہیں اور ان کے اس اقدام کو کشیدگی کے خاتمے کی ایک کوشش قراردیا گیا تھا۔انھوں نے اگلے روز کئی ہفتوں کے وقفے کے بعد دوبارہ سے جمعہ کا خطبہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

انھوں نے اس رائے کو مسترد کردیا تھا کہ وہ قطر کی اس کے پڑوسی ممالک کے ساتھ سفارتی کشیدگی کی وجہ سے خاموش تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ''میں ذاتی وجوہ کی بنا پر تقریریں نہیں کررہا تھا،اس کا موجودہ صورت حال سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے''۔

انھوں نے آج جاری کردہ بیان میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے ماضی میں ملنے والے انعامات کا بھی ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''میں نے عوامی بیانات میں جن آراء کا اظہار کیا،وہ تعمیری تنقید کے طور پر تھیں۔میں نے جو کچھ کہا اور جو کہتا ہوں،اس کی حیثیت مخلصانہ مشورے کی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ان کا اخلاص ثابت ہو جائے گا''۔

انھوں نے ان میڈیا اطلاعات کی بھی تردید کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ وہ بہت جلد قطر سے چلے جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ ''میں قطر کا حصہ ہوں،قطر میرا حصہ ہے۔اس وقت میری عمر اٹھاسی برس ہے اور میں انتقال کے بعد تدفین کے لیے قطر ہی میں رہنا چاہتا ہوں''۔

مذکورہ تینوں ممالک نے علامہ قرضاوی کی حالیہ مہینوں کے دوران تندوتیز تقریروں اوربیانات پر ناراضی کا اظہار کیا تھا اور انھوں نے اس ضمن میں قطر پر دباؤ بھی ڈالا تھا۔متحدہ عرب امارات نے فروری میں قطری سفیر کو طلب کیا تھا اور ان سے علامہ یوسف القرضاوی کے قطر کے سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے ایک بیان پر سخت احتجاج کیا تھا۔

اس بیان میں انھوں نے یواے ای کو غیر اسلامی قراردے کر اس کی مذمت کی تھی۔یواے ای کی جانب سے قطری سفیر کی طلبی کے باوجود علامہ قرضاوی راست بازی سے باز نہیں آئے تھے اور انھوں نے اس کے فوری بعد ایک خطاب میں یو اے ای کو مخاطب کرکے کہا تھا:''کیا آپ ان دوسطروں سے نالاں ہیں جو میں نے آپ کے بارے میں کہی تھیں؟اگر میں نے آپ کے اسیکنڈلوں اور ناانصافیوں کے بارے میں پورا خطبہ دے دیا تو پھر کیا ہوگا''۔

متحدہ عرب امارات ،سعودی عرب اور بحرین ہمسایہ ریاست قطر کی جانب سے مصری جماعت اخوان المسلمون کی حمایت پر خاص طور پر نالاں تھے اور ان کے درمیان سفارتی تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے لیکن اگلے روز سعودی دارالحکومت ریاض میں منعقدہ خلیج تعاون کونسل کے وزارتی اجلاس میں ان ممالک میں اپنے باہمی اختلافات کے خاتمے اور ایک دوسرے کے داخلی امور میں عدم مداخلت سے اتفاق کیا ہے۔