.

صدام کے مُخبر کو آبرو ریزی کے جرم میں 28 سال قید

جاسم نے 13 سال کی عمر میں امریکی فوجیوں کی معاونت شروع کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ریاست کولو راڈو کی ایک مقامی عدالت نے تئیس سالہ عراقی نژاد جاسم محمد رمضان اور اس کے تین ساتھیوں کو ایک امریکی خاتون کی آبرو ریزی کے جرم میں 28 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ جاسم رمضان کا عراق کے سابق مصلوب صدر صدام حسین کے خفیہ ٹھکانے کا پتہ چلانے میں اہم کردار رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کی عراق سے امریکا تک کے سفر کی داستان بھی بڑی دلچسپ اور حیرت انگیز ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 10 سال قبل 2004ء میں جاسم کی عمر محض 13سال تھی۔ اس نے اسی کم عمری میں امریکی فوجیوں کا اعتماد حاصل کرتے ہوئے ان کے ایک مخبر کا کردار ادا کیا۔ عراق کے سابق فوجی صدر صدام حسین کے ٹھکانے کا سراغ لگانے، اپنے والد کو امریکیوں کے ہاتھوں پکڑوانے، والدہ کو قتل کرانے اور دسیوں مزاحمت کاروں کو حراست میں لینے میں جاسم کا کلیدی کردار تھا۔ امریکی فوجی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اگر جاسم محمد رمضان ان کے ہاتھ نہ لگا ہوتا صدام حسین کے زیر زمین ٹھکانے تک ان کا پہنچنا مشکل تھا۔

امریکی میڈیا کے مطابق اکیس جولائی 2012ء کو جاسم رمضان اور اس کے تین ساتھیوں سرمد فاضل، محمد مصطفی ستار الفراحی، علی محمد حسن الجبوری اور یاسر جبار جاسم کو ریاست کولو راڈو کے شہر سپرینگس سے پولیس نے حراست میں لیا۔ ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے رات کو ایک امریکی خاتون کو راہ چلتے روکا۔ اپنے فلیٹ پر لے گئے اور اسے شراب پلانے کے بعد اس کی عصمت ریزی کی جسے بعد ازاں تشویشناک حالت میں اسپتال داخل کیا گیا۔

جاسم سے عمر میں تیس سال بڑی خاتون نے پولیس کو بتایا کہ شراب پلائے جانے کے بعد وہ بے ہوش ہو گئی تھی اور جب اسے ہوش آیا تو وہ اسپتال میں تھی جہاں اس کے نازک اعضاء میں شدید تکلیف اور جسم سے بہت سا خون بہہ چکا تھا۔ تشدد زدہ خاتون کی نشاندہی پر پولیس نے چھاپہ مارا اور جاسم کو اس کے ساتھیوں سمیت حراست میں لے کر ان پر خاتون کی مبینہ عصمت دری کا مقدمہ درج کر لیا۔ دو سال تک ان پر مقدمہ کی کارروائی جاری رہی۔

گذشتہ جمعہ کو امریکی عدالت نے امریکی فوجیوں کے لیے نہایت اہمیت کے حامل رہنے والے عراقی مخبر کو اٹھائیس سال قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔ امریکیوں نے اس پر 'مہربانی' کی کہ اسے امریکا کہ شہریت دلوائی اور امریکیوں ہی کے ہاتھوں وہ اپنے کیے کی سزا بھگت رہا ہے۔

جاسم اور امریکی فوج

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی فوجی ڈینیئل ہنڈرکس نے عراق سے واپسی کے بعد 2009ء میں "فوجی کا وعدہ" کے عنوان سے ایک کتاب شائع کی۔ کتاب کے سرورق پر بھی جاسم کی تصویر شائع کی گئی۔ اس کتاب میں مصنف نے بتایا کہ عراق میں جنگ کے اوائل کے برسوں میں انہیں عراقی مزاحمت کاروں، القاعدہ جنگجوؤں اور صدام نواز گروپوں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا۔ ہمیں ایسے لوگوں کی اشد ضرورت تھی جو ہمیں مزاحمت کاروں اور امریکی فوجیوں کے مخالفین بالخصوص صدام حسین اور دیگر مفرور لیڈروں کے ٹھکانوں کی نشاندہی میں مدد کرتے۔

جاسم رمضان سے تعارف اس وقت ہوا جب اس نے ایک امریکی فوجی اڈے میں آ کر ایک کلاشنکوف فوجیوں کے حوالے کی اور بتایا اس کے اس کے والد نے یہ کلاشنکوف اسے دی تھی اور کہا تھا میں امریکی فوجیوں پر گولی چلاؤں۔ جاسم کے بہ قول اس کا والد ایک سنگدل انسان تھا جو اسے اور اس کی والدہ کو امریکی فوجیوں پر حملہ نہ کرنے پر انہیں تشدد کا نشانہ بناتا۔ وہ جاسم کو کئی بار بندوق دے کر امریکی فوجیوں پر حملے کے لیے بھیج چکا تھا لیکن جاسم حملہ کیے بغیر ہی واپس چلا جاتا، جس پر اسے والد کے ہاتھوں تشدد برداشت کرنا پڑتا۔

جب اس نے یہ سارا واقعہ امریکی فوجیوں کو بتایا انہوں نے کارروائی کر کے اس کے والد کو پکڑ لیا۔ کارروائی میں جاسم کی والدہ کو بھی گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد جاسم مسلسل امریکی فوجیوں کے ساتھ رہتا۔ ان کے لیے عراقی مزاحمت کاروں کی مخبری کرتا جس پر اسے "دنیا کا کم سن جاسوس" کا لقب دیا گیا۔اس کی جاسوسی اور مخبری پر 40 نہایت مطلوب افراد پکڑے گئے، کئی کے خلاف آپریشن میں انہیں ہلاک کر دیا گیا۔

امریکی فوجیوں نے اسے سابق روپوش عراقی صدر صدام حسین کے ممکنہ ٹھکانوں کے بارے بتایا اور اسے یہ ٹاسک دیا کہ وہ ان کی تلاش کرے۔ جاسم نے صدام حسین کی تلاش شروع کر دی اور آخر کار اسے ایک مشکوک مکان کا پتہ چلا جس کے بارے میں اس نے امریکی فوجیوں کو بتایا۔ امریکی فوجیوں نے مکان میں گھس کر تلاشی لی اور اس زمین دوز بنکروں کا پتہ چلا لیا، جہاں صدام حسین کئی ماہ سے چھپا ہوا تھا۔ 2004ء کے آخرتک جاسم رمضان کی جاسوسی کے تذکرے امریکا تک پہنچ چکے تھے۔ چونکہ جاسم کا اپنا خاندان ختم ہو گیا تھا اس لیے امریکی فوجیوں نے خود ہی اسے امریکا کا ویزہ دلایا اور بعد ازاں اسے امریکی شہریت بھی دے دی گئی۔ وہ پچھلے کئی سال سے امریکی ریاست کولوراڈو میں مقیم تھا اور اب اگلے اٹھائیس سال وہ جیل میں گذارے گا۔