.

منافرت: شیعہ عالم کے ٹی وی چینل کے خلاف تحقیقات

کویتی عالم پر برطانیہ میں ٹی وی چینل سے فرقہ وارانہ تقاریر نشر کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں ایک سیٹلائٹ ٹیلی ویژن اسٹیشن کے خلاف ایک شیعہ عالم کی منافرت انگیز تقاریر نشر کرنے پر تحقیقات کی جارہی ہیں۔

برطانیہ کے ٹیلی ویژن ریگولیٹر ادارے ''آف کام'' نے شیعہ عالم دین شیخ یاسر الحبیب کے قائم کردہ فدک ٹی وی کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔شیعہ عالم دین پر الزام ہے کہ انھوں نے ایسی تقاریر نشر کی ہیں جو سنی مسلمانوں کے خلاف جارحیت پر مبنی ہیں اور ان سے اسلامی دنیا میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔

شیخ یاسر نے بکنگھم شائر کے نواحی علاقے میں واقع ایک گاؤں فلمر میں مسیحیوں کے ایک سابق چرچ ہال میں اپنا ٹی وی اسٹیشن قائم کررکھا ہے۔آف کام کے ترجمان نے العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:''فدک ٹی وی کے خلاف تحقیقات سے اگر یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ اس نے ہمارے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی ہے تو پھر اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی''۔

ترجمان کے بہ قول ادارے کو حاصل اختیارات کے تحت فدک ٹی وی چینل پر جرمانہ عاید کیا جا سکتا ہے اور اس کی نشریات بند بھی کی جاسکتی ہیں۔آف کام نے مبینہ طور پر 2012ء میں بھی شیخ یاسرالحبیب کی ایک نفرت انگیز تقریر نشر ہونے کے بعد اس ٹی وی چینل کے خلاف تحقیقات کی تھی۔

برطانیہ میں منافرت آمیز تقاریر نشر ہونے کے خلاف سخت قانون نافذ ہے لیکن برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ فدک ٹی وی یورپ میں اپنی نشریات نہیں دکھاتا ہے اس لیے آف کام اس کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں رکھتا۔

تاہم اس کے باوجود ادارے نے شیخ یاسر کی نئی منافرت آمیز تقاریرکی رپورٹس منظرعام پر آنے کے بعد فدک ٹی وی کے خلاف نئی تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ڈیلی میل کی ایک رپورٹ کے مطابق شیخ یاسر کو 2004ء میں برطانیہ نے سیاسی پناہ دی تھی۔اس سے قبل انھیں اپنے آبائی ملک کویت میں سنی مسلمانوں کی توہین کے الزام میں قید کی سزا سنائی گئی تھی جس کے بعد وہ برطانیہ آگئے تھے۔

اخبار نے لکھا ہے کہ کویتی نژاد عالم دین نے یہ ٹیلی ویژن چینل بیس لاکھ پاؤنڈز میں خرید کیا تھا اور اب وہ برطانیہ کے ایک دیہی علاقے سے اس چینل کے ذریعے اپنی منافرت آمیز تقاریر نشر کررہے ہیں۔

برطانیہ میں مسلمانوں کی تنظیم کے صدر ڈاکٹر عمر الحمدون نے کہا ہے کہ وہ کشیدگی پھیلانے والے کسی بھی شخص کے خلاف تحقیقات کا خیرمقدم کرتے ہیں۔انھوں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''جو لوگ منافرت پھیلاتے ہیں،وہ مسلم یا غیر مسلم معاشرے کے مفادات کی کوئی خدمت نہیں کررہے ہیں۔اسی لیے ہم فرقہ واریت پھیلانے والوں کے خلاف حکومت کے کسی بھی اقدام کی حمایت کرتے ہیں''۔

لندن میں قائم عرب،برطانیہ مفاہمتی کونسل کے ڈائریکٹر کرس ڈائل نے شیخ یاسر کے ٹی وی چینل کے خلاف تحقیقات کا خیرمقدم کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''آزادیِ اظہار اور براہ راست شرانگیزی کی تشہیر میں فرق ہے اور برطانیہ میں انتہا پسند کی تشہیر پر کوئی ہمدردی نہیں ہوسکتی ہے''۔

العربیہ نے جب شیخ یاسر سے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کے لیے رابطہ کیا تو انھوں نے کچھ کہنے سے گریز کیا ہے۔