.

10 برطانوی خواتین شامی فوج کے خلاف جہاد میں شریک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دس برطانوی خواتین کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے گھربار چھوڑ کر شام پہنچ چکی ہیں جہاں وہ اس وقت باغی جنگجوؤں کی صف میں شامل ہوکر صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف لڑائی میں شریک ہیں۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل نے اپنی جمعہ کی اشاعت میں جہادی امور کے ایک ماہر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ''کم سے کم دس خواتین کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ وہ شام میں ہیں اور ان میں زیادہ تر اپنے خاوندوں کے ساتھ وہاں گئی ہیں''۔

شیراز ماہر لندن کے کنگز کالج کے عالمی مرکز برائے مطالعہ سخت گیری اور بنیاد پرستی کے سربراہ ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ برطانوی خواتین اپنے طور پر تو نیک نیتی کے جذبے سے شام میں جہاد کے لیے جارہی ہیں لیکن اس وقت وہاں باغی جنگجو گروپ آپس ہی میں برسرپیکار ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف محاذ آراء ہیں۔

ڈیلی میل نے لکھا ہے کہ ''شام جانے والی خواتین میں سے دو لڑکیوں کا تعلق پورٹس ماؤتھ ،ایک کا سرے ،دو لندن سے ہیں اور پانچ برطانیہ کے مختلف شمالی شہروں سے تعلق رکھتی ہیں''۔

برطانیہ کو اپنے مسلم شہریوں کے شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف جاکر لڑنے پر گہری تشویش لاحق ہے اورانسداد دہشت گردی پولیس نے نوجوانوں کو شام جانے سے روکنے کے لیے جمعرات کو ایک مہم شروع کی ہے۔اس مہم کی ابھی صدائے بازگشت سنی ہی جارہی تھی کہ اس کے ایک روز بعد دس خواتین کے شام پہنچنے کی خبر سامنے آگئی ہے۔

شیراز ماہر نے خبردار کیا ہے کہ جولوگ جہاد کے نام پر شام کا رُخ کررہے ہیں ،وہ وہاں دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے ہتھے چڑھ سکتے ہیں۔اس مشکوک جنگجو باغی گروپ سے القاعدہ لاتعلقی کا اظہار کرچکی ہے جبکہ یہ گروپ شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے خلاف لڑنے والے دوسرے باغی اور جہادی گروپوں کا بھی مخالف ہے اور گذشتہ کئی ماہ سے ان کے درمیان لڑائی ہورہی ہے جس کی وجہ سے اس کے بارے میں اب شام میں کوئی اچھی رائے نہیں پائی جارہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بہت سے برطانوی جہادی اخلاص نیت سے شام کا رُخ کررہے ہیں اور بشارالاسد کی جابر حکومت سے لوگوں کو نجات دلانے کے متمنی ہیں لیکن بہت سے جہادی برسرزمین حقائق کو نہیں جانتے اور وہ داعش کی صفوں میں شامل ہوکر دوسرے باغی دھڑوں کے خلاف لڑائی کا حصہ بن سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ مارچ 2011ء میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف عوامی بغاوت کے آغاز کے بعد سے کم سے کم چھے سو برطانوی شہری شام گئے ہیں۔ان میں سے بیس کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ وہ لڑائی میں کام آچکے ہیں۔

گذشتہ سال شام سے برطانیہ واپس جانے والے پچیس مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ 2014ء کے پہلے تین ماہ کے دوران چالیس افراد کی گرفتاری عمل میں آئی ہے اور ان میں سے بیشتر کے خلاف دہشت گردی کے الزامات کے تحت فرد ہائے جرم عاید کی گئی ہیں۔