.

برطانیہ سیاحت کے لیے غیر محفوظ: 52 فی صد اماراتیوں کی رائے

تجزیہ کاروں کا سیاحوں کو لندن کے بجائے خلیجی شہروں کا رُخ کرنے کا مشورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے باون فی صد شہریوں نے لندن میں حال ہی میں اماراتی سیاحوں پر دو سنگدلانہ حملوں کے بعد برطانیہ کو سیاحت کے لیے غیر محفوظ ملک قراردے دیا ہے۔

امارتی شہریوں کے برطانیہ سے متعلق اس رویے میں تبدیلی ان دونوں حملوں کے بعد رونما ہوئی ہے حالانکہ خلیج سے بڑی تعداد میں لوگ ہر سال سیاحت کے لیے لندن اور دوسرے شہروں کا رُخ کرتے ہیں اور متحدہ عرب امارات سے پچاس ہزار سے زیادہ شہری سالانہ سیروسیاحت کے لیے برطانیہ جاتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے ایک سات رکنی گینگ نے لندن میں ایک اماراتی شہری اور اس کی اہلیہ پر ان کے اپارٹمنٹ میں حملہ کیا تھا۔اس سے قریباً تین ہفتے قبل تین اماراتی خواتین پران کے ہوٹل کے کمرے میں ہتھوڑے سے حملہ کیا گیا تھا جس سے ایک خاتون کے دماغ کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

حملہ آوروں نے ان تینوں خواتین کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ان سے ایک ہزار پاؤنڈز سے زیادہ مالیت کا سامان لوٹ لیا تھا اور ان میں سے ایک کے بنک کارڈز کو استعمال کرکے تین ہزار پاؤنڈز نکلوا لیے تھے۔دوسرے حملے کا نشانہ بننے والے اماراتی جوڑے کو کوئی جانی نقصان تو نہیں پہنچا تھا لیکن ان سے رقم ،زیورات اور کریڈٹ کارڈز ہتھیا لیے گئے تھے۔

ان حملوں کے بعد اماراتی شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی اور وہ یہ سوچنا شروع ہوگئے تھے کہ اب برطانوی دارالحکومت ان کی سیروسیاحت کے لیے محفوظ مقام نہیں رہا ہے۔اماراتی شہریوں کی اس حوالے سے رائے جاننے کے لیے العربیہ نیوز نے یو گورنمںٹ کے ساتھ مل کر ایک سروے کیاہے جس میں 1154 افراد سے سوالات پوچھے گئے تھے۔

اس سروے میں حصہ لینے والے ایک تہائی اماراتیوں کا کہنا تھا کہ وہ شاید اب سیروسیاحت کے لیے برطانیہ کا رُخ نہ کریں۔متحدہ عرب امارات میں مقیم 31 فی صد عرب تارکین وطن کا بھی کہنا تھا کہ وہ بھی سیاحت کے لیے برطانیہ نہیں جائیں گے۔

لندن کے شعبہ سیاحت سے متعلق ایک عہدے دار سے جب العربیہ نے رابطہ کیا تو ان صاحب کا موقف تھا کہ برطانوی دارالحکومت اب بھی محفوظ ترین شہر ہے۔انھوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ یہ دعویٰ بھی کر گزرے کہ لندن تو دنیا کے محفوظ ترین شہروں میں سے ایک ہے اور یہاں ہر سال لاکھوں سیاح آتے ہیں۔لندن کے شعبہ سیاحت نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ شہر میں تو بہت کم جرائم ہوتے ہیں۔

لیکن متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے ایک تجزیہ کار سلطان سعود القاسمی نے اس سے اتفاق نہیں کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ایسے بہت سے واقعات تو شاید رجسٹر ہی نہیں ہوتے۔انھوں نے بتایا کہ لندن میں ان کے بہت سے دوستوں پر حملے ہوئے ہیں لیکن وہ کوئی خبر نہیں بن سکے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران پیش آنے والے واقعات اس لیے میڈیا کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے کہ یہ دونوں حملے بہت ہی سنگدلانہ انداز میں کیے گئے تھے۔ان حملوں سے قبل بھی اماراتی اور دوسرے غیر ملکیوں پر زبانی گالم گلوچ اور ڈکیتی کے حملے ہوتے رہے ہیں لیکن وہ کبھی رپورٹ نہیں ہوئے۔

یو گورنمنٹ کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں چیف ایگزیکٹو سندیپ چہل نے العربیہ سے گفتگو میں کہا: ''وزٹ بریٹین کے لیے یہ کہنا بہت آسان ہے کہ لندن ایک محفوظ جگہ ہے لیکن اس سروے کے نتائج سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اماراتیوں کی اکثریت اب برطانیہ جانے کو تیار ہی نہیں ہے۔اگر برطانوی حکام اس کو نظرانداز کردیتے ہیں اور معمول کا ہی جواب دیتے ہیں تو یہ کافی نہیں ہوگا''۔

برطانوی پولیس نے مذکورہ دونوں حملوں کے حوالے سے کہا تھا کہ ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔تینوں اماراتی خواتین پر لندن کے وسط میں واقع کمبرلینڈ ہوٹل میں حملے میں ملوث ہونے کے شبے میں ایک عورت سمیت چار مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اس ہوٹل کے ترجمان کرس کنگ نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اماراتی خواتین پر حملہ ایک ''انتہائی'' کیس تھا اور ان کے ہوٹل کے کمرے کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا گیا تھا۔ترجمان کا کہنا تھا کہ لندن جیسے شہر میں اس طرح کے واقعات رونما نہیں ہوتے ہیں۔

تجزیہ کار قاسمی نے ایک اور پتے کی بات کی ہے۔انھوں نے العربیہ سے گفتگو میں کہا کہ ''سیاحوں کے تحفظ کو یقینی بنانا تو برطانیہ کی ذمے داری ہے لیکن میرے خیال میں کچھ ذمے داری خلیجی ریاستوں پر بھی عاید ہوتی ہے جو اتنی زیادہ تعداد میں سیاحوں کو برطانیہ اور یورپ میں برآمد کرتے ہیں۔وہ ان سیاحوں میں شعور اجاگر کریں کہ وہ اس طرح اپنی دولت کو یورپ کی سیاحت میں نہ اڑائیں۔اگر انھوں نے سیاحت کے لیے ہی جانا ہے تو وہ پھر اپنے ہی شہروں کویت ،دوحہ ،ریاض ،دبئی یا ابوظہبی کا رخ کریں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاحوں کو تحفظ سے متعلق اپنے ادراک کی بنا پر ہی سفر پر نہیں نکل پڑنا چاہیے۔