او آئی سی کے ایک شعبے کی پہلی خاتون سربراہ مقرر

سعودی صحافیہ مھا عقیل 2006 سے او آئی سی سے وابستہ ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی صحافی مھا عقیل کو اسلامی ملکوں کی نمائندہ تنظیم 'او آئی سی' کے شعبہ اطلاعات و تعلقات عامہ کی سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ مھا عقیل اس سے پہلے او آئی سی کے ترجمان جریدے کی مدیر کے طور پر کام کر رہی تھیں۔ کسی خاتون کا ایک او آئی سی کے ایک شعبے کی سربراہ مقرر ہونے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

اپنی نئی تقرری کے حوالے سے مھا عقیل کا کہنا تھ کہ "نئی ذمہ داری کی وجہ سے لوگوں میں او آئی سی اور اس کی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہی کو بڑھانے کا موقع ملے گا، اس دوران او آئی سی کی طرف سے شروع کیے گئے اجتماعی مفاد کے اقدامات بھی سامنے لانے کا موقع ہو گا۔ ''

ان کا کہنا تھا ''سچی بات یہ ہے کہ نئی تقرری ایک بھاری ذمہ داری ہے لیکن جنرل سیکرٹری کی مدد اور رہنمائی کے ساتھ ساتھ اپنے رفقائے کار کے تعاون سے میں اپنی ذمہ داری بہ احسن نبھا سکوں گی، اگرچہ میرے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے، مجھے امید ہے کامیاب رہوں گی۔''

ایک سوال کے جواب میں مھا عقیل نے کہا ''اس چیلنج کے باوجود میں پریشان نہیں ہوں کیونکہ میں پچھلے سات سال سے او ائی سی کے ساتھ اس کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ میں کام کر رہی تھی۔'' جب میں نے 2006 میں مسلم دنیا کی اس سب سے بڑی تنظیم میں کام شروع کیا اس کے مقابلے میں اب سات خواتین مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہیں، جبکہ سیکرٹری جنرل مزید خواتین کی خدمات اس ادارے کے لیے حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ ''

واضح رہے او آئی سے کے نئے سیکرٹری جنرل عیاض مدنی سعودی عرب کے سابق وزیر اطلاعات ہیں۔ اس ناطے پوچھے گئے ایک سوال کی مھا عقیل نے تردید کی اور کہا انہیں یہ پوزیشن سعودی خاتون ہونے کی وجہ سے نہیں ملی بلکہ اس منصب کیلیے انہوں نے جدوجہد کی ہے۔

مھا عقیل نے کہا بد قسمتی سے اسلام کے حوالے سے یہ غلط تصور ہے کہ خواتین کو مقام اور حقوق نہیں دیے جاتے، یہ تاثر درست نہیں ہے لیکن صرف غیر مسلموں میں ہی نہیں یہ غلط فہمی مسلمانوں میں بھی پائی جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں