سعودی نونہالوں کو شیر مادر مفت نہیں ملے گا؟

خواتین نے شوہروں سے بچوں کو دودھ پلانے کا عوضانہ طلب کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں پچھلے دو برسوں کے دوران ایسے 13 مقدمات سامنے آئے ہیں جن میں خواتین نے عدالت میں درخواست دائر کی ہے کہ ان کے شوہروں کو اس امر کا پابند بنایا جائے کہ وہ انہیں شیر خوار بچوں کو دودھ پلانے کی عوضانہ ادا کریں۔

عدالتی ماہرین کے مطابق یہ فیس اوسطا 300 ریال ماہانہ کے حساب سے ادا کی جانی چاہیے۔ سابق سعودی جج یاسف السلیم کے مطابق''یہ فیس میاں اور بیوی کے درمیان طے ہونی چاہیے۔ اگر اس پر باہم اتفاق نہ ہو سکے تو اس صورت میں دوسری خواتین کو ادا کی جانے والی فیس کی اوسط کے حساب سے ادا کی جانی چاہیے۔ ''

یوسف السلیم کا کہنا ہے کہ ''خواتین کی طرف سے عدالتوں میں یہ درخواستیں شرعی عدالتی نظام کی دفعہ 168 کے تحت دائر ہوئی ہیں۔ نظام شریعت کی یہ دفعہ خواتین کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ بچوں کو دودھ پلانے کی فیس کا تقاضا کر سکیں۔ ''

سابق جج نے کہا ''حتی کہ مطلقہ ہو جانے والی خواتین بھی یہ مطالبہ کر سکتی ہیں، تاہم اس بارے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے۔ یوسف السلیم کے مطابق شافعی اور حنفی مکتبہ ہائے فکر مطلقہ خواتین کو یہ حق دینا جائز سمجھتے ہیں یہاں تک کہ کسی خاتون کا شوہر فوت بھی ہو گیا ہو تو اس کے ترکے سے ادائیگی ضروری ہے۔

قانونی مشیر احمد الجتائلی نے کہا شریعت خواتین کو حقوق اور تحفظ فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا اس نوعیت کے مقدمات دوسرے عائلی نوعیت کے مقدمات کے مقابلے میں بہت کم عدالتوں میں لائے جاتے ہیں۔ واضح رہے سعودی عدالتوں میں 2012 کے دوران ایسے مقدمات کی تعداد سات تھی جبکہ 2013 میں ان مقدمات کی تعداد چھ رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں