.

عالم اسلام کا پہلا سیاسی قتل یکم مئی کو ہوا

ایرانی بادشاہ ناصرالدین شاہ 'سیاسی فتوے' کا پہلا شکار بنے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یکم مئی مزدروں کے دن ہی نہیں بلکہ بعض حوالوں سے یوم مظلوم بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ فی زمانہ یہ دن محنت کشوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے مگر اس امر کو فراموش نہیں کی جا سکتا کہ دنیا میں سیاسی اسلام کے پرستاروں کے قتل کے فتاویٰ کی بنیاد پر سب سے پہلا سیاسی قتل بھی اسی دن ہوا تھا۔

ایک سو اٹھاسی برس پہلے یہ یکم مئی 1896ء ہی کا دن تھا جب اسوقت کے ایک سرکردہ عالم دین سید جمال الدین اسد آبادی المعروف جمال الدین افغانی کے فتوے پر مرزا رضا کرمانی نامی ایک شدت پسند نے ایران کے قاچاری خاندان کے بادشاہ ناصرالدین شاہ کو موت کی نیند سلا دیا تھا۔ یہاں سے سیاسی اسلام، سیاسی فتاویٰ اور اس کے تحت سیاسی قتل کی ریت پڑی جو آج بام عروج پر ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایرانی بادشاہ ناصر الدین شاہ کے بہیمانہ قتل کے حوالے سے ایک خصوصی رپورٹ مرتب کی۔ تاریخی مصادر کے مطالعے کی روشنی میں تیارکردہ اس خصوصی رپورٹ کے مطابق جب ناصرالدین شاہ کے قتل کا فتویٰ صادر کیا گیا تو اس وقت علامہ سید جمال الدین افغانی استنبول میں مقیم تھے۔

سیاسی اسلام کے محرکات

برطانیہ کی کیمرج یونیورسٹی میں ایرانی امور سے متعلق پروفیسر ہیلری باکر نے 'تاریخ ایران' کے عنوان سے اپنی حالیہ کتاب میں ناصر الدین شاہ کے قتل کی تفصیلات منکشف کی ہیں۔ انہوں نے شاہ کے قتل کو خالص سیاسی قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ: "ماضی میں بھی ایران کے اندر بادشاہوں کو موت کے گھاٹ اتارا جاتا تھا لیکن ان کے اسباب مختلف ہوتے تھے۔ عموما اقتدار کی رساکشی کے دوران کسی بادشاہ کو لٹکا دیا جاتا۔ کسی کو برطرف کر دیا جاتا اور یہ سلسلہ زیادہ تر حکمراں خاندانوں کے اندر محدود رہتا تھا لیکن ناصرالدین شاہ کو ایک سیاسی فتوے کی بنیاد پر قتل کیا گیا۔ یہ فتویٰ اس وقت کے ایک ممتاز عالم دین کی جانب سے جاری کیا گیا تھا، جو پوری اسلامی دنیا میں تبدیلی اور مسلم امہ کی نشاہ ثانیہ کا بیڑا اٹھانے کے دعوے دار بھی تھے۔

"تاریخ ایران" میں ناصرالدین شاہ کے قتل کے حوالے سے مزید تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ مرزا رضا کرمانی نامی شدت پسند علامہ جمال الدین افغانی کا شاگرد تھا۔ اس نے محض سیاسی اور نظریاتی بنیادوں پر قاچاری خاندان کے ایک اہم بادشاہ کی جان لی تھی۔

پرانی کتابوں اور تحریری دستاویزات میں ایرانی بادشاہ کے مبینہ قاتل مرزا رضا کرمانی کی تصاویر بھی دستیاب ہیں۔ جن میں اسے بادشاہ پر قاتلانہ حملے کے بعد جیل میں قید دکھا یا گیا ہے۔ بعد ازاں اسے بھی سر عام پھانسی دے دی گئی تھی۔ مسلکی اعتبار سے مرزا رضا کرمانی شیعہ تھا اور تصاویر میں اس نے اہل تشیع کا مخصوص لباس بھی زیب تن کر رکھا ہے۔

سید جمال الدین افغانی

سید جمال الدین افغانی کا تعلق ایران کے شہر ہمدان سے بتایا جاتا ہے جبکہ بعض دوسرے تاریخی حوالوں میں ان کی تاریخ پیدائش افغانستان کے شہر کابل سے کچھ فاصلے پر واقع اسد آباد گاؤں کی بتائی جاتی ہے۔ وہ 1838ء میں پیدا ہوئے اور سنہ 1897ء میں انکا انتقال ہوا۔ سید جمال الدین افغانی انیسویں صدی میں عالم اسلام کے ایک سرکردہ عالم دین ہی نہیں بلکہ مسلمانوں میں بیداری اور مسلم امہ کی نشاہ ثانیہ کے سرخیل بھی سمجھے جاتے تھے۔

انہوں نے بھارت، ایران، افغانستان، ترکی اور پیرس تک کے مسلسل سفر کیے۔ اپنے مذہبی خیالات کی بناء پر انہیں کئی بار مسلمان ممالک سے بے دخل کیا جاتا رہا۔ وہ کچھ عرصہ میسن تحریک سے بھی وابستہ رہے کہ آخر کار فرانس میں اپنے شاگرد الشیخ محمد عبدہ کے ہمراہ 'العروۃ الوثقیٰ' کے نام سے ایک میگزین شائع کرنا شروع کیا۔ اپنے دور میں وہ شیعہ اور سنی مکاتب فکر میں یکساں مقبول رہے۔ ان کی اسلام کے لیے خدمات اپنی جگہ لیکن جس سیاسی اسلام کی بنیاد انہوں نے شاہ ایران ناصرالدین شاہ کے قتل سے شروع کی تھی وہ آج ایک تن آور درخت بن چکا ہے اور اس کی شاخیں پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔