.

براک اوباما کے پوتین کی ''ننگی چھاتی'' پر طنز کے نشتر!

''ری پبلیکنز کے لیے ہلیری کلنٹن کی کینیا میں پیدائش ثابت کرنا مشکل ہوگا''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے روسی صدر ولادی میر پوتین کی ننگی چھاتی والی تصویر پر طنز کے نشتر برسائے ہیں اور اپنی حکومت کی پالیسیوں کا بھی مضحکہ اڑایا ہے۔

براک اوباما نے اپنی شخصیت کے اس نئے پہلو کا اظہار وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے اعزاز میں دی گئی سالانہ ضیافت میں کیا ہے۔اس موقع پر صحافیوں کو فن کی دنیا کی اہم شخصیات اور ارباب اقتدار وسیاست سے گھلنے ملنے کا موقع ملتا ہے اور امریکی صدر دوسروں کے علاوہ اپنا بھی مضحکہ اڑاتے ہیں۔

اوباما نے قدامت پسند ٹیلی ویژن میزبانوں کی روسی صدر ولادی میر پوتین کی ننگی چھاتی کے بارے میں گفتگو کا مزاحیہ انداز میں تذکرہ کیا اور حاضرین کو مسکرانے پر مجبور کردیا۔انھوں نے حزب اختلاف کے اس دعوے کا بھی مضحکہ اڑایا کہ وہ امریکا کے بجائے بیرون ملک پیدا ہوئے تھے۔

امریکی صدر نے کہا:''روڈی جولیانی کہتے ہیں پوتین ایک لیڈر ہیں مائیک حکابی اور سیان حینٹی ان کی ننگی چھاتی کے بارے میں گفتگو کرتے رہتے ہیں اور یہ خاص اہمیت کی حامل ہوتی ہے''۔وہ روسی صدر کی ننگی چھاتے کے بارے میں گفتگو کررہے تھے جس کو پریس میں بڑے نمایاں انداز میں شائع کیا گیا ہے۔

انھوں نے وائٹ ہاؤس میں اپنے ممکنہ جانشین کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا:''ری پبلکنز کے لیے یہ ثابت کرنا بہت مشکل ہوگا کہ ہلیری رودھم کلنٹن کینیا میں پیدا ہوئی تھیں''۔

صدر اوباما نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی جانب سے ملائشیا کی قومی فضائی کمپنی کے لاپتا طیارے کی تلاش کے لیے کی جانے والی وسیع تر کوششوں کی پل کی پل کی کوریج کا بھی ذرا مختلف انداز میں مذاق اڑایا اور حاضرین کو بتایا کہ وہ حال ہی میں ملائشیا کے دورے سے لوٹے ہیں اور انھوں نے سی این این کی اس طویل کوریج کا جائزہ لینے کے لیے ہی انھوں نے اتنا لمبا سفر کیا ہے۔

صدراوباما نے تقریب میں دوسروں پر طنز وتنقید کے نشتر برسانے کے علاوہ اپنی ذات کو بھی نہیں بخشا اور محفل کو کشت زعفران زار بنائے رکھا۔انھوں نے 2013ء میں صحت کئیر کے لیے اپنے اقدامات اور اس سے متعلق ویب سائٹ کے اجراء کے لیے پیش آنے والی مشکلات کا ذکر مزاحیہ اندازمیں کیا۔

عشائیے میں امریکی خاتون اول مشعل اوباما سیاہ ٹائی پہننے کے موقع پران کے ساتھ تھیں۔این بی سی کی سیریز ''کمیونٹی'' کے اسٹار جوئل میکہیل اس موقع پر اپنے فن سے حاضرین کو محظوظ کرتے رہے۔اس تقریب میں امریکی ٹی وی چینلز کے نمایاں پروگراموں اور ٹاک شوز کے میزبان بھی شریک تھے۔

واضح رہے کہ براک اوباما کے دور صدارت میں وائٹ ہاؤس کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے اعزاز میں سالانہ ڈنر کی یہ تقریب تین چار مرتبہ بڑے اہم واقعات پیش آنے کے بعد آئی ہے۔2011ء میں امریکی خصوصی فورسز کی القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے پاکستان میں شب خون کارروائی سے قبل اور گذشتہ سال بوسٹن میراتھن واقعہ کے کوئی دوہفتے کے بعد یہ تقریب منعقد ہوئی تھی۔

اس مرتبہ براک اوباما کی جانب سے یہ عشائیہ یوکرین اور روس کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں دیا گیا ہے۔یوکرین کے جنوب مشرقی علاقے میں کشیدگی پر امریکا اور یورپ کو گہری تشویش لاحق ہے جبکہ اس مرتبہ وائٹ ہاؤس کے نمائندگان کی ایسوسی ایشن اپنی ایک سوویں سالگرہ بھی منا رہی ہے۔

اس موقع پر متعدد صحافیوں کو امریکی ایوان صدر اور قومی ایشوز کی کوریج پر انعامات سے نوازا گیا۔سی این این کی بریانا کیلر اور پولیٹیکو کے گلین تھرش کو وائٹ ہاؤس کی کوریج کے اعتراف میں آلڈو بیک مین ایوارڈ دیا گیا۔

ڈیڈلائن کوریج پر نیویارک ٹائمز کے پیٹر بیکر اور سی بی ایس نیوز کے پیٹر مائر میرمان اسمتھ ایوارڈ کے حق دار ٹھہرے۔امریکا کے قومی اہمیت سے متعلق ایشوز کی کوریج پر رائیٹرز کے میگن ٹووہے اور مرکز برائے عوامی دیانت کے کرس حامبی ،اے بی سی نیوز کے میتھیو موسک اور برائن راس کو ایجر اے پو ایوارڈ سے نوازا گیا۔