.

مونیکا لیونسکی کا کلنٹن کے ساتھ اسکینڈل پر پچھتاوا برقرار!

اسکینڈل چھپانے کے لیے ایک کروڑ ڈالرز کی پیش کش ٹھکرا دی تھی:مضمون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

1990ء کے عشرے میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے ساتھ اپنے جنسی اسکینڈل سے عالمگیر شہرت پانے والی مونیکا لیونسکی نے کئی برسوں کی خاموشی کے بعد چُپ کا روزہ توڑ دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ جو کچھ ہوا،انھیں اس پر اب بھی افسوس ہے۔

چالیس سالہ مونیکا نے امریکی جریدے ''وینٹی فئیر میگزین'' میں ایک مضمون لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ ''اب میرے ماضی کی ٹوہ لگانے اور دوسروں کے مستقبل کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔میں اپنی کہانی کا ایک مختلف اختتام چاہتی ہوں''۔


وہ امریکا کے سابق ڈیموکریٹ صدر بل کلنٹن کے دوسرے دور میں وائٹ ہاؤس میں ایک انٹرن کے طور پر داخل ہوئی تھیں۔ پھر ان دونوں کے درمیان راہ ورسم بڑھے تنہائی میں ملاقاتیں ہوئیں اور دونوں کے تعلقات کا ناخوشگوار بلکہ بھیانک انجام ہوا اور اس سے انھیں اپنی زندگی کا رُخ ہی تبدیل کرنا پڑ گیا تھا۔

اس میگزین کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے مضمون کے اقتباسات کے مطابق مونیکا نے لکھا ہے:''اس کے (صدر کے) طاقتور عہدے کو بچانے کے لیے مجھے قربانی کی بکری بنا دیا گیا۔اس کے بعد ہی غلط کاری ہوئی تھی''۔

انھوں نے لکھا:''میرے اور صدر بل کلنٹن کے درمیان جو کچھ ہوا،مجھے اس پر سخت افسوس ہے۔مجھے یہ دوبارہ کہنے دیجیے۔جو کچھ ہوا ،مجھ اس پر گہرا افسوس اور ندامت ہے''۔

یادرہے کہ مونیکا کے ساتھ معاشقے کے نتیجے میں صدر کلنٹن کو 1999ء میں ایوان نمائندگان میں مواخذے کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن سینیٹ نے انھیں بری قرار دے دیا تھا اور یوں وہ اپنی مدت صدارت پوری کرنے میں کامیاب رہے تھے۔

مونیکا لیونسکی اس اسکینڈل کے بعد منظر سے بالکل غائب ہوگئی تھیں۔انھوں نے لندن اسکول آف اکنامکس سے سماجی نفسیات (سوشل سائیکالوجی) میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کررکھی ہے۔اس کے بعد وہ لاس اینجلس ،نیویارک اور پورٹ لینڈ،اوریگن میں رہتی رہی ہیں۔

انھوں نے مذکورہ مضمون میں''اب پچھتاوے کیا ہوت جب چڑیا چگ گئیں کھیت'' کے مصداق یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ انھیں تو ایک کروڑ ڈالرز کی پیش کش بھی کی گئی تھی لیکن انھوں نے اتنی بڑی رقم کو ٹھکرا دیا تھا۔انھوں نے مزید لکھا ہے کہ انھوں نے تحقیقات کے دوران متعدد مرتبہ اور اس کے بعد دو ایک مرتبہ خودکشی کی بھی کوشش کی تھی۔


امریکی سیاست میں ان کا نام اس سال فروری میں اس وقت ایک مرتبہ پھر سامنے آیا تھا جب سابق خاتون اول ،امریکی وزیرخارجہ اور ڈیموکریٹک پارٹی کی شکست خوردہ صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن نے انھیں اپنے ایک مضمون میں ''نرگسیت زدہ انا پرست'' قراردیا تھا۔

ریاست کینٹکی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر اور ری پبلکن پارٹی کے متوقع صدارتی امیدوار رینڈ پال نے مونیکا لیونسکی کے معاملے پر ڈیموکریٹس کو ''منافقین'' قراردیا ہے اور کہا ہے کہ ایک طرف تو وہ خواتین کے حقوق کی بات کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب وہ بل کلنٹن کے اس عورت سے ناروا سلوک کی تائید وحمایت بھی کرچکے ہیں۔

لیونسکی نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ انھیں 2010ء میں رٹگرس یونیورسٹی کے ایک طالب علم کی خودکشی کے واقعہ سے بولنے کا حوصلہ ملا تھا۔اس طالب علم کی ایک اور شخص کے ساتھ بوس وکنار کرتے ہوئے ویڈیو آن لائن پوسٹ کردی گئی تھی جس کے بعد اس نے خودکشی کر لی تھی۔

مونیکا نے مزید لکھا ہے کہ ''میں غالباً واحد عورت ہوں جس کو انٹرنیٹ کی وجہ سے عالمی سطح پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اب میرا یہ مقصد ہے کہ میں آن لائن سُبکی اور ہراسیت کا شکار ہونے والوں کے لیے بولوں اور میں عوامی فورموں پر اس موضوع پر گفتگو کروں گی''۔