زچگی کی رخصت نہ ملنے پر سویڈش خاتون وزیر کا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حقوق نسواں کے علمبردار یورپی ملک سویڈن نے ایک اہم خاتون وزیر کو زچگی کے لئے چھٹی دینے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد حاملہ وزیرہ نے حکومت کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی " اے ایف پی" کے مطابق سویڈن کی وزیر برائے یورپی امور بریگیٹا اولسن نے مقامی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے ساتھ برتے گئے حکومتی رویے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ اس نے بتایا کہ میں اپنے 'حمل' کے آخری ایام میں ہوں اور میں نے زچگی کے لیے متعلقہ حکام کو چھٹی کی درخواست کی جو مسترد کر دی گئی۔ مجھے حکومت کے اس اقدام پر گہرا افسوس ہے۔ میں ایک ایسے ملک کی خاتون شہری ہوں جس میں حقوق نسواں کو ملکی سیاست میں اولین ترجیح حاصل ہے۔

ایک سوال کے جواب میں السن نے کہا کہ "میں نے ایک سے زائد مرتبہ چھٹی کے لیے درخواست دی۔ اب میری درخواست کوئی راز نہیں رہی ہے۔ میں ماں بننے والی ہوں اور مجھے زچگی کے مشکل مراحل سے گذرنے کے لئے چھٹی درکار ہو گی۔ میں اس بات پر حیران ہوں کہ مجھے "زچگی" کے لیے چھٹی کیوں نہیں ملی حالانکہ ہمارے پڑوسی ملک ناروے میں بھی اس کی اجازت ہے"۔

خیال رہے کہ سویڈن کے لیبر قوانین کے مطابق نو مولود بچے کی پرورش کے لیے 480 ایام ماں اور باپ دونوں میں تقسیم کیے گئے ہیں۔ کوئی عام خاتون بچے کی پیدائش اور پرورش کے لیے 420 دن کے لیے ملازمت سے رخصت لے سکتی ہے تاہم وزراء کو اتنی زیادہ تعطیلات ملنا کافی مشکل ہوتا ہے۔

گذشتہ برس یورپی ملک ناروے نے اہم حکومتی شخصیات اور وزراء کو بھی عام شہریوں کی طرح تعطیلات سے استفادے کا قانون منظور کیا تھا۔ فرانس میں بھی ماں بننے والی خواتین کے لیے زیادہ عرصہ چھٹیاں لینا مشکل ہوتا ہے۔ سنہ 2009ء میں اس وقت کی وزیر قانون رشیدہ ڈاتی نے بچے کی پیدائش کے محض پانچ دن بعد دفتر میں حاضر ہو کر سب کو حیران کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں