موبائل ایپلیکشن کے ذریعے معدوم فلسطینی بستیوں کی سیر

فلسطینی 'آئی نکبہ' کے ذریعے بھولی بسری یادیں تازہ کرنے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سنہ 1948ء کی جنگ اور سر زمین فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے قیام کی تلخ یادیں 66 سال بعد آج بھی فلسطینیوں کے دل دماغ میں ترو تازہ ہیں۔ قیام اسرائیل کے دوران شمالی فلسطین کے 425 شہروں اور دیہات میں آباد لاکھوں عربوں کو ھجرت پر مجبور کیا گیا جو آج مختلف پڑوسی ملکوں میں بےخانماں ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔

گزشتہ چھیاسٹھ برس سے فلسطینی اندرون اور بیرون ملک قیام اسرائیل کے منحوس دن کو "یوم نکبہ" یا قیامت کبریٰ کے طور پر مناتے ہیں۔ حال ہی فلسطینیوں کے اپنے اصل وطن "حق واپسی" کے لیے سرگرم" ذاکرات" نامی ایک تنظیم نے ایک ایسی منفرد موبائل ایپلی کیشن متعارف کرائی ہے جس میں قیام اسرائیل سے پہلے کے فلسطینی قصبات کے نقشوں کو ان کے اصل ناموں کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ گو کہ دنیا کے موجودہ نقشے میں ان بستیوں کا کوئی وجود نہیں کیونکہ یہودی فوجوں نے فلسطینیوں سے دیہات خالی کرانے کے بعد ان کے نام، نقشے، تاریخ اور جغرافیائی حیثیت سب تبدیل کر دیے تھے۔

موبائل ایپلی کیشن میں شمالی فلسطین کے سنہ 1948ء سے قبل کا "الشیخ مونس" نامی قصبہ بھی شامل ہے۔ موجودہ نقشے کے مطابق فلسطین میں ایسا کوئی گاؤں موجود نہیں۔ قیام اسرائیل کے بعد الشیخ مونس قصبے میں عبرانی یونیورسٹی قائم کی گئی۔ بستی کے کھنڈرات پر چند سڑکیں اور کچھ دیگر عمارتیں دیکھنے کو مل سکتی ہیں لیکن ان میں کہیں بھی فلسطینیوں کا کوئی وجود نہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق"ذاکرات" کی جانب سے "I Nakba" موبائل ایپلی کیشن فلسطینیوں کی بھولی بسری یادوں کو تازہ کرنے کے ساتھ فلسطینیوں کے 'حق واپسی' کے احیاء کی کوشش ہے۔ موبائل ایپلی کیشن کی مدد سے آپ الشیخ مونس کے علاوہ سیکڑوں دوسرے پرانے فلسطینی قصبات کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ ان قصبوں کو قدیمی ناموں اور نقشوں کے مطابق دکھایا گیا۔ اگر کوئی ان علاقوں میں جانے کی کوشش کرے تو یہ موبائل ایپلی کیشن اس کے لیے رہ نمائی کا کام دے سکتی ہے، بالخصوص یہ ایپلی کیشن فلسطینی مہاجرین کے لیے زیادہ دلچسپی کی حامل ہو گی جو آج نصف صدی بعد بھی اپنی آنکھوں میں آبائی علاقوں میں آباد ہونے کے سپنے سجائے بیٹھے ہیں۔

اسرائیلی تنظیم"ذاکرات" کی خاتون ڈائریکٹر لیئٹ روزنبرگ کا کہنا ہے کہ ملکوں، شہروں اور قصبوں کے نقشوں کی حیثیت "سیاسی دستاویز" کی ہوتی ہے اور یہ بدلتے رہتے ہیں۔ ہم نے موبائل ایپلی کیشن کی مدد سے فلسطین کے پرانے قصبات کو ان کے اصل نقشوں کے مطابق ترتیب دینے کی کوشش کی ہے تاکہ حقائق کو نئے انداز میں پیش کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ذاکرات" فلسطینی پناہ گزینوں کے حق واپسی کی پر زور حمایت جاری رکھے گی۔ موبائل ایپلی کیشن بھی فلسطینیوں کے حق واپسی کے مطالبے کو تازہ کرنے کی کوشش ہے۔ ہم اسرائیلی شہریوں اور عالمی رائے عامہ کو بھی بتانا چاہتے ہیں کہ فلسطینی پناہ گزینوں کی دوبارہ ان کے علاقوں میں آباد کاری کا مسئلہ ابھی تک زندہ ہے۔ پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے سرگرم" پلاننگ سینٹر" کے رکن عمر غباریہ کا کہنا ہے کہ "ذاکرات ۔ زوخروت" کی تیار کردہ موبائل ایپلی کیشن دراصل فلسطینیوں کے شہروں اور قصبات کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے خلاف ایک احتجاج ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فلسطینی شہری دھڑا دھڑ یہ موبائل ایپلی کیشن حاصل کر رہے ہیں۔ صرف دو دنوں میں 7000 موبائل صارفین نے یہ ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کی ہے۔

یاد رہے کہ "ذاکرات" کی جانب سے موبائل ایپلی کیشن ایک ایسے وقت میں تیار کی گئی ہے جب اندرون اور بیرون ملک لاکھوں فلسطینی 66 ویں یوم نکبہ کی یاد میں جلسے جلوس اور ریلیاں منعقد کر رہے ہیں۔ سنہ 1948ء کی جنگ کے دوران جبری بے دخل کیے گئے 50 لاکھ فلسطینی آج بھی وطن واپسی کی امیدیں لگائے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں