.

امارت میں لندن کی معاصر شہروں نیویارک اور ماسکو پر سبقت

برطانیہ کے 104 ارب پتیوں کی مجموعی دولت پانچ کھرب ڈالر سے متجاوز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ارب پتیوں کے اعتبار سے لندن معاصر شہروں نیویارک اور ماسکو پر سبقت لے گیا ہے۔ لندن میں مجموعی طور پر 72 ارب پتیوں کی دولت ایک کھرب آسٹریلوی پاؤنڈ یعنی ایک کھرب 60 ارب امریکی ڈالر بنتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطالعے سے گذرنے والی 'سنڈے ٹائمز' کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں مجموعی طور پر 104 ارب پتی موجود ہیں جن میں 72 صرف دارالحکومت لندن میں مقیم ہیں۔ ان ایک سو چار امراء کی کل دولت پانچ کھرب سات ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ روسی دارالحکومت ماسکو 48 ارب پتی امیروں کے ساتھ دوسرے اور امریکا کا نیویارک 43 امراء کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

مجموعی آبادی میں ارب پتیوں کے تناسب کے اعتبار سے بھی برطانیہ کو سبقت حاصل ہے۔ برطانیہ میں ہر چھ لاکھ 70 ہزار افراد میں ایک ارب پتی موجود ہے جبکہ امریکا میں ایک ملین لوگوں میں صرف ایک ارب پتی ملتا ہے۔ تاہم ایک دوسرے پہلو سے لندن نیویارک اور ماسکو سے پچھے بھی ہے۔ لندن میں موجود نصف ارب پتی مقامی نہیں بلکہ دوسرے ممالک کے تارکین وطن پر مشتمل ہیں۔ لندن میں ایسے 39 ارب پتی موجود ہیں جن کی پیدائش مقامی نہیں، جبکہ مجموعی طورپر بھی 104 ارب پتیوں میں 44 غیر ملکی ہیں یعنی تارکین وطن میں سمجھے جاتے ہیں۔

برطانوی ارب پتیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اس بھارتی خاندان کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جس نے سنہ 1914ء میں لندن میں"ھندوجا" نامی ایک کمپنی قائم کی تھی۔ آج اس فرم میں 72 ہزار افراد کام کرتے ہیں۔ یہ کمپنی تیل، گیس، ذرائع ابلاغ اور مواصلات سمیت کئی دوسرے اداروں میں سروسز فراہم کر رہی ہے۔

اس کے علاوہ 78 سالہ سریچانڈ اور اس کے 74 سالہ بھائی گوبشنڈ برطانیہ کے سب سے دولت مند افراد سمجھے جاتے ہیں۔ جن کی مجموعی دولت وثروت گیارہ ارب نوے کروڑ ڈالر سے زیادہ ہے۔ بہر صورت لندن اس وقت ارب پتیوں کی دنیا کا مرکز ہے جہاں دنیا بھر سے امراء کھچے چلے آتے ہیں۔

تین سال قبل عرب ممالک میں شروع ہونے والی بغاوت کی تحریکوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عرب امراء نے بھی برطانیہ جیسے ملکوں کا رُخ کیا۔ ان کے ساتھ ان کا سرمایہ بھی لندن منتقل ہوا۔ برطانوی حکومت نے بھی موقع غنیمت جانا اور عرب سرمایہ داروں کے لیے ویزوں کی شرائط میں نرمی کر دی۔

لندن حکومت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2013ء کے دوران عرب سرمایہ داروں کے لیے سنہ 2012ء کی نسبت 423 ویزوں کا اضافہ ہوا۔ سنہ 2012ء میں عرب ممالک کے مخصوص افراد کے لیے 530 ویزے جاری کیے گئے جبکہ 2013ء میں یہ تعداد 1038ء تک جا پہنچی ہے۔ اس کا اندازہ آپ اس امرسے بھی لگا سکتے ہیں کہ اسی عرصے میں چین کے سرمایہ کاروں کے لیے 95 کے بجائے 171، امریکیوں کے لیے 19 کے بجائے 66، روسیوں کے 99 کے بجائے 125 اور مصریوں کے لیے ویزوں کی تعداد دوگنا کر دی گئی تھی۔