.

تماشائی فٹبال کے بجائے خوبرو ریفری کے حسن میں محو

اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے، جس نے ڈالی نظر بری ڈالی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فُٹبال اور کرکٹ کا جنون لاکھوں لوگوں کو دیوانہ بنائے رکھتا ہے لیکن آج ثابت ہو گیا کہ صنف نازک کا حُسن کسی پسندیدہ ترین کھیل کی دیوانگی اور شوق بھی بھلا دیتا ہے۔ آج سے پہلے یہ بات شائد فسانہ لگے لیکن پانچ براعظموں کے لاکھوں تماشائیوں پر برازیلی حسینہ کے حسن کا جادو کچھ ایسا چڑھا کہ وہ نہایت دلچسپ فٹبال میچ بھی بھول گئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برازیل کی دو مقامی ٹیموں کے درمیان فٹبال میچ کے دوران لاکھوں لوگوں کی توجہ میچ سے ہٹا کر اپنی جانب مبذول کرانے والی یہ دوشیزہ 23 سالہ فرنانڈا کولمبو اولیانو ہے جو فٹ بال میچ میں کھلاڑی نہیں بلکہ "ریفری" کے طور پر حصہ لے رہی تھی۔ مقامی فٹبال ٹیموں اٹیلی ٹیکو مینرو اور کرو زیرو کے درمیان میچ میں اٹیلی ٹیکو مینیرو نے اپنی حریف ٹیم کو دو گول سے ہرا دیا۔ شکست خوردہ ٹیم کرو زیرو کے مینیجر الیگذنڈر ماٹوس نے الزام عائد کیا کہ ریفری [فرنانڈا اولیانو] نے دوسرے راؤنڈ کے 41 منٹ میں ایک کھلاڑی کا غلط فاوول دیا، اگر وہ یہ فاوول نہ دیتیں تو میچ برابر ہو جاتا۔

الیگذنڈر نے تو جذباتی انداز میں اولیانو کے بارے میں مختلف تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "اگر یہ کوئی حسینہ ہے تو 'جہنم میں جائے'، ہمیں کھیل کے میدان میں پیشہ ور لوگ چاہئیں"۔

الیگذنڈر کے اس تبصرے کے برعکس سوشل میڈیا بالخصوص "فیس بک" پر اولیانو کے بارے میں تماشائیوں نے تبصروں کا جو طوفان اٹھا رکھا ہے اس میں کھیل کے دوران کسی کھلاڑی کے غلط فاوول دئے جانے کا کوئی ذکر نہیں بلکہ ہر طرف اس کے ریفری کے حسن کے چرچے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فٹبال تماشائیوں کی توجہ حاصل کرنے والی برازیلی دوشیزہ تین سال سے فٹبال کوچ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہے لیکن اسے عالمی شہرت پچھلے بدھ کو برازیل کی دو دوسری ٹیموں سان پاولو اور ریگا تاس کے درمیان میچ میں ریفری کے طور پر خدمات انجام دینے کے دوران حاصل ہوئی۔ اس میچ میں بھی تماشائی کھیل کے بجائے اولیانو کے حسن میں ڈوبے رہے۔

برازیلی فٹبال فیڈریشن کی جانب سے فرنانڈا اولیانو کو انٹرنیشنل فٹبال فیڈریشن میں بہ طور پر ریفری خدمات کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، تاہم اس کی بعض پیشہ ورانہ کمزوریوں کے باعث کوئی بڑی ذمہ داری نہیں سونپی جا سکتی۔ عین ممکن ہے کہ عالمی تماشائیوں کی دلچسپی اور حسن اس کے پیشہ ورانہ عیوب پر پردہ ڈال سکے۔

پری چہرہ اولیانو کو کھیل کے میدان میں بعض مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اپنے ایک انٹرویو میں اس کا کہنا تھا کہ کھیل میں کھلاڑی اس کے ساتھ زبان اور ہاتھ کے اشاروں سے چھیڑ چھاڑ بھی کرتے ہیں۔ بسا اوقات کوئی کھلاڑی ایک کاغذ میں پتھر لپیٹ کر اس کی طرف اچھال دیتا ہے۔ کاغذ پر نامناسب اور غیر مہذب الفاظ تحریر ہوتے ہیں۔

ایسے کھلاڑیوں کے ساتھ ریفری کے طور پر چلنا اس کے لیے مشکل بھی ہوتا ہے تاہم وہ چپ چاپ اپنے کام میں مگن رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ میں مانتی ہوں کہ میں ایک حسین اور پرکشش نسوانیت کی حامل دوشیزہ ہوں مگر میں سمجھتی ہوں کہ کھیل کا جادو حسن سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ اس کا یہ قول اپنی جگہ مگر اس نے فی الوقت لاکھوں تماشائیوں کو اپنے حسن سے مرعوب کر لیا ہے اور حسن کے جادو نے کھیل کی دیوانگی کو مات دے دی۔