.

حمص: کھنڈر میں تبدیل مزارِ خالد بن ولید کے دلخراش مناظر

مزار میں آیات قرآنی کی جگہ فرقہ وارانہ نعروں کی چاکنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف بغاوت کے مرکزی شہر حمص میں سرکاری فوج اور اس کی حامی ملیشیا نے شہر کی اینٹ سے اینٹ تو بجا دی لیکن ان کی خوئے انتقام صرف باغیوں کے قتل عام اور نہتے شہریوں کو ڈیڑھ سال تک محصور رکھنے تک محدود نہ رہی بلکہ شہر کے مقدس مقامات حتیٰ کہ جلیل القدر صحابی رسول حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے مزار اور اس سے متصل تاریخی جامع مسجد کو بھی ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حمص سے ایک معاہدے کے تحت باغیوں اور ان کے حامی عوام کے انخلاء کے بعد سماجی کارکنوں نے انٹرنیٹ پر ویڈیو پوسٹ کی ہیں، جس میں شہر کی تباہی اور بربادی کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ ان میں حضرت خالد بن ولید کا مزار اور اس سے متصل جامع مسجد عمار بن یاسر کی تباہی کے مناظر بھی شامل ہیں۔

گذشتہ برس دو مرتبہ حضرت خالد بن ولید کے مزار پر اسدی فوج نے بمباری کی اور میزائلوں سے حملے کیے جس کے نتیجے میں مزار کو بُری طرح نقصان پہنچا تھا، لیکن حال ہی میں باغیوں کے انخلاء کے بعد اسدی گماشتوں نے مزار اور جامع مسجد کی بچی کچھی عمارتوں کو بھی تباہ کر دیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ اسدی فوج اور ان کے حامیوں نے مزار شریف میں گھس کر اس میں موجود دینی اور تاریخی کتابوں کو نذر آتش کیا، مزار کی اندرونی اور بیرونی دیواروں پر اشتعال انگیز چاکنگ کی گئی اور فرقہ وارانہ نوعیت کے نعرے تحریر کیے گئے ہیں۔

گذشتہ برس جولائی میں حزب اللہ اور بشار الاسد کی حمایت میں لڑنے والے کرائے کے قاتلوں نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے مزار کو تباہ کرنے کی دھمکی دی۔ اس دھمکی پر سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر اہالیان حمص کی جانب سے شدید رد عمل ظاہر کیا گیا۔

اہالیاں حمص کے دلوں میں حضرت خالد بن ولید سے محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ وہ اس مقدس مقام کی حفاظت کو اپنی زندگی سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ اس سے والہانہ محبت پر فخر کرتے ہیں۔ یہ اہالیان حمص کی صحابی رسول کے ساتھ محبت ہے کہ انہوں نے شہر [حمص] کا نام بھی صحابی رسول کی نسبت سے "مدینۃ الولید" قرار دے رکھا ہے۔

باغیوں کے انخلاء کے بعد سامنے آنے والی ویڈیو پوسٹس کے ذریعے حمص کے باشندوں کی بھوک، غربت ،تکالیف کے ساتھ حضرت خالد بن ولید کے مزار کی شہادت کا دکھ بھی دیکھنے کو ملا ہے۔ شہری پرسان حال ہیں لیکن وہ جلد از جلد دوبارہ شہر میں واپس جانا چاہتے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ حمص ان کا شہر ہے بلکہ اس لیے بھی یہ شہر "اللہ کی تلوار" حضرت خالد بن ولید کی آخری آرام گاہ ہے۔ صحابی رسول سے محبت وعقیدت انہیں پھر سے حمص واپس لوٹنے پر مجبور کر رہی ہے۔